سعودی رجیم شیعہ نوجوانوں کی پھانسیاں فوری روکے، اقوام متحدہ ماہرین

26 اکتوبر, 2026 14:04

شیعیت نیوز : اقوام متحدہ کے ماہرین نے سعودی رجیم کی جانب سے 29 سالہ شیعہ شہری حسن زکی الفرج کو کم عمری میں مبینہ طور پر کیے گئے اقدامات پر پھانسی دیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یوسف محمد مہدی المناصف اور محمد لباد کی متوقع پھانسیاں فوری طور پر روکی جائیں۔

سعودی وزارت داخلہ نے 17 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ حسن الفرج کو چار دیگر افراد کے ہمراہ پھانسی دے دی گئی ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ کو پیشگی اطلاع تک نہیں دی گئی اور ان کا جسد خاکی بھی ورثاء کے حوالے نہیں کیا گیا، جس پر ماہرین نے کہا کہ بچپن کے کسی جرم پر سزائے موت بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر ممنوع اور زندگی سے ناحق محرومی ہے۔

حسن الفرج پر 14 یا 15 سال کی عمر میں مشرقی صوبے میں شیعہ برادری سے ناروا سلوک کے خلاف مظاہروں اور جنازوں میں شرکت کے الزامات تھے، رپورٹس کے مطابق تشدد کے ذریعے ان سے اعتراف کرایا گیا، تقریباً تین ماہ قید تنہائی میں رکھا گیا اور تین سال تک وکیل تک رسائی نہیں دی گئی، اور وہ ایک سال کے دوران کم عمری کے الزامات پر پھانسی پانے والے چوتھے شخص ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جزیرہ نما عرب کے باشندوں کو سزائے موت مجرمانہ اقدام، یمنی وزارت خارجہ

ماہرین کے مطابق سعودی سپریم کورٹ نے یوسف المناصف اور محمد لباد کی سزائے موت برقرار رکھی ہے، جنہیں 2011 اور 2012 میں شیعہ اقلیت سے سلوک کے خلاف پرامن مظاہروں میں شرکت کی پاداش میں سزا سنائی گئی، اس وقت المناصف کی عمر صرف 15 یا 16 سال تھی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے سزائے موت کے لیے مبہم انسداد دہشت گردی قوانین کے استعمال اور شیعہ اقلیت کو نشانہ بنانے پر تشویش ظاہر کی، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق آل سعود نے 2025 میں کم از کم 347 افراد کو پھانسی دی جو 2024 کی 345 پھانسیوں سے بھی زیادہ ہے۔

2:47 شام اکتوبر 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔