جزیرہ نما عرب کے باشندوں کو سزائے موت مجرمانہ اقدام، یمنی وزارت خارجہ
شیعیت نیوز : یمن کی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے سعودی حکام کی جانب سے جزیرہ نما عرب کے متعدد باشندوں کو سزائے موت دیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ اقدام قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تکفیری سعودیہ کی جابر حکومت کا ظلم، ماتھا چومنے کے بنیاد الزام پر بنگلہ دیشی جوڑے کو سزائے موت
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سزائیں نجد اور حجاز سمیت جزیرہ نما عرب کی آبادیوں کے خلاف جابرانہ کارروائیوں کے ایک سلسلے کا حصہ ہیں۔ بیان میں خطے کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ سعودی رجیم سے لاحق خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کریں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب میں سزائے موت کے استعمال پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں، جن میں اہل خانہ کو پیشگی اطلاع دیے بغیر سزاؤں پر عمل درآمد کے خدشات بھی شامل ہیں۔ سعودی حکام نے 17 اکتوبر کو مشرقی صوبے میں پانچ نوجوانوں کو سزائے موت دی تھی۔
سزائے موت پانے والوں میں حسن زکی الفرج بھی شامل تھے، جنہیں قطیف میں احتجاجی مظاہروں اور جنازوں میں شرکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ ان پر عائد الزامات اس دور سے متعلق تھے جب ان کی عمر 14 اور 15 برس تھی۔ یورپی سعودی تنظیم برائے انسانی حقوق کے مطابق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست نے الفرج کی حراست کو من مانی قرار دیا تھا۔
انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم کے مطابق سعودی سپریم کورٹ نے ایک اور نوجوان یوسف المناسف کی سزائے موت بھی برقرار رکھی ہے، جن پر 15 اور 16 برس کی عمر میں مبینہ جرائم کا الزام ہے، اور اسی طرح کے الزامات میں کم از کم تین دیگر افراد بھی سزائے موت کے منتظر ہیں۔ کم عمری کے الزامات پر قطیف اور مشرقی صوبے کے نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ثابت کرتا ہے کہ آل سعود مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے سزائے موت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔







