سعودی جارحیت کے خلاف متنوع اور حیران کن آپشنز موجود ہیں، مہدی المشاط

26 اکتوبر, 2026 14:02

شیعیت نیوز : یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے سعودی جارحیت کی تازہ لہر کو 100 دن سے زائد مکمل ہونے پر یمنی عوام اور امت مسلمہ کے نام پیغام میں کہا ہے کہ یمن ہر ممکن ذریعے سے جارحیت اور محاصرے کے خاتمے کی جانب بڑھے گا، اور اللہ کے فضل سے ہمارے پاس اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے متنوع اور حیران کن آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2022 میں سعودی رجیم کے ساتھ کشیدگی میں کمی کی مفاہمت میں مستقل جنگ بندی، محاصرہ اٹھانے اور تنخواہوں کی ادائیگی پر اتفاق ہوا تھا، مگر آل سعود نے امریکہ اور صیہونی ریاست کے اشارے پر روڈ میپ الٹ دیا اور اہل غزہ کی حمایت کی سزا کے طور پر یمنی عوام پر محاصرہ مزید سخت کر دیا۔

مہدی المشاط نے کہا کہ سعودی رجیم نے 13 جولائی کو صنعاء ایئرپورٹ پر بمباری کر کے نئی جارحیت کا آغاز کیا، اور اب تک تقریباً تین ہزار فضائی حملوں میں 562 سے زائد یمنی شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حرمین پر حملے سے متعلق سعودی رجیم کا دعویٰ جھوٹ ہے، ترجمان یمنی مسلح افواج

انہوں نے کہا کہ مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے سے متعلق سعودی رجیم کے من گھڑت الزامات اس کی بے بسی اور ناکامی کا ثبوت ہیں، اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ یا مسجد نبوی پر کسی بھی حملے کی مکمل ذمہ داری سعودی رجیم پر ہوگی، کیونکہ مقدس مقامات ہمارے لیے سرخ لکیر ہیں۔

یمنی صدر نے مصر کی جامعہ الازہر کی مصالحتی پیشکش کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر ثالثوں اور فریقین میں مخلصانہ ارادہ ہو تو ایسی ہر منصفانہ کوشش کامیاب ہوگی، کیونکہ امن کا راستہ کم قیمت اور زیادہ پائیدار ہے۔

انہوں نے صیہونی دشمن اور امریکی منصوبے کے مقابلے کے لیے اسلامی اتحاد کی تشکیل کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بحری جہاز رانی محفوظ ہے، اصل خطرہ سعودی رجیم کی جانب سے باب المندب کو جنگی علاقہ بنانا ہے۔

2:46 شام اکتوبر 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔