کے پی کے میں گورنر راج سنگین جمہوری غلطی ہے، علامہ مقصود ڈومکی
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے مسجد حسینی و کربلائی امام بارگاہ ڈیرہ مراد جمالی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلِ محمدؑ سے محبت ایمان کی علامت اور تعلیماتِ اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کے فضائل کا انکار کرنے والے ناصبی عناصر اپنی یزیدی فکر معاشرے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، جن کی علمی و فکری سطح پر حوصلہ شکنی بے حد ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مولانا اللہ وسایا کی جانب سے ’احتسابِ ناصبیت‘ کے عنوان سے 12 جلدوں پر مشتمل علمی ذخیرے کی تدوین کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی صدر کی رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے 7 گھنٹے طویل ملاقات
علامہ مقصود ڈومکی نے 2015 کے چھلگری اور جیکب آباد سانحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عزادارانِ امام حسینؑ کو خوفزدہ کرنے کے مذموم مقاصد میں مکمل ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے عوام، علمائے کرام اور ماتمی انجمنوں کو دعوت دی کہ وہ 23 اکتوبر 2026ء کو جیکب آباد میں سانحۂ شبِ عاشور کے شہداء کی گیارہویں برسی اور ’عظمتِ شہداء کانفرنس‘ میں بھرپور شرکت کریں۔
ملکی سیاسی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے رہنما ایم ڈبلیو ایم نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں منتخب عوامی حکومت کو برطرف کر کے گورنر راج نافذ کرنا ایک سنگین سیاسی اور جمہوری غلطی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے پہلے ہی بلوچستان کے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے، ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ 1973 کے آئین کی پاسداری اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
تقریب سے علامہ سیف علی ڈومکی نے بھی خطاب کیا، جبکہ مدرسہ امام صادقؑ کے پرنسپل علامہ محمد رضا مفکر، بانی امام بارگاہ حاجی ہدایت اللہ گورشانی اور ایم ڈبلیو ایم نصیر آباد کے رہنما سید سعید علی شاہ نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر علامہ مقصود ڈومکی نے امام بارگاہ کے تعمیراتی کام کا جائزہ بھی لیا۔







