آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے، جنرل علی فدوی
جنرل علی فدوی
شیعیت نیوز : سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے کمانڈر ان چیف کے مشاورتی گروپ کے سربراہ جنرل علی فدوی نے ایک خصوصی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز طویل عرصے سے یقینی طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے امریکی فوجی طاقت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی صلاحیت بنیادی طور پر سمندری محور پر مبنی ہے، یعنی ان کی بحریہ میں ہی زمینی فوج اور فضائیہ دونوں شامل ہیں، لہٰذا امریکہ کی اصل فوجی طاقت کا مظہر اس کی بحریہ ہی ہے۔
جنرل علی فدوی نے ایک تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ 1853 سے خلیج فارس میں موجود رہی ہے، لیکن اب تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کوئی بھی امریکی جنگی جہاز نہ صرف خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان، بلکہ شمالی بحر ہند میں بھی موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : الحشد الشعبی کے کامیاب سکیورٹی آپریشنز، کالعدم بعث پارٹی کے کارندوں سمیت 55 مشتبہ افراد گرفتار
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی فرار ہو گئے ہیں اور ہماری سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور چلے گئے ہیں۔ ان کا یہ انخلا ان کی اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کی بے پناہ طاقت اور ہیبت کا نتیجہ ہے۔
تیل کی عالمی ترسیل اور معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے جنرل فدوی نے کہا کہ امریکیوں کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے متبادل راستوں سے 30 سے 40 لاکھ بیرل تیل گزار سکتے ہیں؛ کیونکہ یہ مقدار اس آبی گذرگاہ سے گزرنے والے تیل کے مجموعی حجم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اس سے قبل روزانہ 2 کروڑ بیرل سے زیادہ تیل باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا، جو دنیا بھر کی تیل برآمدات کا 46 فیصد بنتا ہے۔ اب اس اہم راستے سے تیل کی برآمدات کو درپیش رکاوٹوں نے عالمی معیشت بالخصوص امریکہ اور یورپ پر انتہائی تباہ کن اور وسیع اثرات مرتب کیے ہیں۔







