جامع عالمی حکمرانی کے لیے یکطرفہ تسلط اور جنگ پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے، ایرانی صدر

13 ستمبر, 2026 10:50

شیعیت نیوز : ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے نئی دہلی میں منعقدہ برکس رکن ممالک کے سربراہان کے غیر اعلانیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہر حکمرانی کے نظام کی ساکھ اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ تمام ممالک کے حقوق کا کتنا تحفظ کرتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کا منشور طاقت کے غیرقانونی استعمال کے مقابل قوموں کا تحفظ نہ کر سکے اور قوانین صرف چند ممالک کے مفادات کے تابع ہوں تو حقیقی کثیرالجہتی نظام کا تصور محال ہے۔

صدر پزشکیان نے حالیہ چالیس روزہ جنگ کے پہلے ہی دن امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اور میناب کے ایک اسکول میں 168 بے گناہ بچوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میناب اسکول اور لامِرد اسٹیڈیم پر حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور قابض حکومت کی یکطرفہ پسندی، جنگ پسندی اور سفاکیت، اقوامِ متحدہ کی بے عملی کے ساتھ مل کر کس طرح براہِ راست انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے غزہ اور لبنان کی صورتحال کو انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ہمارا جواب محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : برکس اجلاس: غزہ سے جبری بے دخلی کی مخالفت، لبنان سے اسرائیلی انخلاء اور قرارداد 1701 پر عمل درآمد کا مطالبہ

ایرانی صدر نے جامع عالمی حکمرانی کے چار بنیادی اصول پیش کیے، جن میں ممالک کی خودمختاری کا یکساں احترام، عالمی حکمرانی کے ڈھانچے (سلامتی کونسل و مالیاتی اداروں) میں اصلاح، قومی کرنسیوں میں تجارت کے فروغ کے ذریعے کثیرالجہتی نظام کی عملی تشکیل، اور یکطرفہ ظالمانہ پابندیوں کا سنجیدہ مقابلہ شامل ہے۔ انہوں نے برکس میں تین اہم رجحانات کی حمایت کا اعلان کیا: ممالک کی خودمختاری کا دفاع، اجارہ داری سے آزاد اقتصادی و مالی تعاون، اور سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی و غذائی تحفظ میں باہمی شراکت داری۔ صدر پزشکیان نے مسئلہ فلسطین کو عالمی حکمرانی کی ساکھ کا امتحان قرار دیتے ہوئے برکس پر زور دیا کہ وہ قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کی ضمانت کے لیے فعال کردار ادا کرے۔

دوسری جانب، ایرانی محققین کے خلاف مغرب کی انتقامی کارروائیوں کے حوالے سے ایرانی وزارتِ صحت کے معاون برائے تحقیقات و ٹیکنالوجی ڈاکٹر شاہین آخوندزادہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانیوں کے سائنسی مقالات کی اشاعت پر پابندی اب محض علمی پابندی نہیں بلکہ باقاعدہ ایک ‘علمی جنگ’ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نامور بین الاقوامی جرائد نے ایران پر عائد پابندیوں کا بہانہ بنا کر آن لائن نظام کے ذریعے مقالات وصول کرنا بند کر دیے ہیں، جو امریکہ کے ‘آزاد علمی دنیا’ اور سائنس کو سیاست سے الگ رکھنے کے کھوکھلے دعوؤں کی واضح نفی ہے۔

11:50 صبح ستمبر 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔