بحرین میں شیعہ علماء اور مذہبی اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن، کارروائیوں پر تشویش
بحرین
شیعیت نیوز : بحرین میں شیعہ علماء، خطیبوں، ائمہ جماعت اور امام بارگاہوں کے خلاف حالیہ عدالتی و سکیورٹی کریک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بحرینی مصنفہ زینب علی کے مطابق یہ معاملہ اب محض انفرادی گرفتاریوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مذہبی اجتماعات، شعائر اور اوقاف تک پھیل چکا ہے، جس سے ملک میں مذہبی آزادی اور منصفانہ عدالتی کارروائی پر سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض علماء کے مقدمات کئی گھنٹوں تک جاری رہتے ہیں، جن میں عائد الزامات کسی واضح مجرمانہ عمل کے بجائے مذہبی تقریر اور عقائد پر مبنی ہوتے ہیں۔ مصنفہ نے انکشاف کیا ہے کہ عدالتوں میں علمائے کرام کے ساتھ نامناسب سلوک اور دباؤ ڈالے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جو ملزمان کے بنیادی حقوق اور شفاف مقدمے کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں : عراقی اہل بیتؑ یونیورسٹی کے وفد کی متولی مسجد جمکران سے ملاقات، علمی و ثقافتی تعاون پر اتفاق
مذہبی اوقاف، جلوسوں، امام بارگاہوں کے بیرونی لاؤڈ اسپیکروں اور بعض مذہبی شخصیات کے زیارتی سفر پر عائد کی گئی حالیہ پابندیوں نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ مصنفہ نے زور دیا ہے کہ ان پابندیوں کو مجموعی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ پرامن مذہبی سرگرمیوں کی بنیاد پر مسلسل کارروائیاں انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذہبی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور عدالتی فیصلے عقیدے کے بجائے ٹھوس شواہد اور شفافیت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔







