کابل میں حوزہ علمیہ خاتم النبیین پر خبیث طالبان رجیم کا وحشیانہ دھاوا اور مظاہرین پر کریک ڈاؤن
طالبان رجیم کا وحشیانہ دھاوا اور مظاہرین پر کریک ڈاؤن
شیعیت نیوز : افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خبیث طالبان رجیم کی جانب سے معروف شیعہ دینی درسگاہ ‘حوزہ علمیہ خاتم النبیین (ص)’ کو جبری طور پر خالی کرانے کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے علما اور طلبہ پر فورسز نے وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور حوزہ کے بانی آیت اللہ محمد آصف محسنی کے فرزند حجت الاسلام حسن محسنی سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
طالبان کی اس کھلی جارحیت اور شیعہ و ہزارہ برادری کے خلاف مسلسل امتیازی اقدامات پر افغانستان کی سیاسی جماعتوں اور حوزاتِ علمیہ کے علما و طلبہ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ علما نے اپنے مشترکہ بیانیے میں واضح کیا ہے کہ حوزہ کا محاصرہ، املاک پر قبضے کی کوشش اور تمدن و راہِ فردا جیسے شیعہ ٹی وی چینلز کی بندش، ملک میں فرقہ وارانہ دباؤ اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا شرمناک تسلسل ہے۔
مزید پڑھیں : جامعۃ المصطفیٰ کراچی اور مسجد و امام بارگاہ شریکۃ الحسین کے تعاون سے دو روزہ قرآنی و ادعیہ نمائش کا انعقاد
شیعہ حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر علامہ حسن محسنی کی سلامتی کے حوالے سے فوری معلومات فراہم نہ کی گئیں اور انہیں رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر کے شیعہ عوام بھرپور احتجاج کے لیے کابل کا رخ کریں گے۔ انہوں نے خبیث طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی مراکز کے معاملات کو جبر اور طاقت کے بجائے قانونی طریقوں سے حل کیا جائے تاکہ جنگ زدہ ملک مزید بدامنی اور عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔







