شہید رہبر خامنہ ای رہ مشکل ترین میدانوں میں حق و باطل کی پہچان کا معیار تھے، محمد باقر قالیباف
رہبر
شیعیت نیوز : اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رہ) کی یاد میں ایک طویل یادداشت تحریر کی ہے جس میں انہوں نے شہید رہبر کو ایک عظیم کمانڈر، استاد اور مرشد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید رہبر محض ذمہ داریاں تقسیم نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ تحریک کی سمت کا تعین کرتے، افق دکھاتے اور مشکل ترین میدانوں میں راہ و بے راہ روی (حق و باطل اور صراطِ مستقیم) کی پہچان کا واضح معیار بن جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر کی ملاقات، 27 ستمبر کے احتجاج پر مشاورت
محمد باقر قالیباف نے اپنی یادداشت میں شہید رہبر (رہ) کی تین اہم خصوصیات کو نمایاں کیا: پہلی، "حقیقت پسندانہ آرمان پرستی” یعنی آرمان کو حقیقت کے ساتھ جوڑنا؛ دوسری، "جہادی انتظام” یعنی محدودیتوں کے باوجود راستے تلاش کرنا اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دینا؛ اور تیسری، "عوام پر گہرا ایمان” یعنی یہ یقین کہ جب عوام میدان میں آ جائیں تو بڑی سے بڑی مشکلات بھی حل ہو جاتی ہیں۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ شہید رہبر کا سب سے بڑا ورثہ ایک ایسا فکری اور انتظامی مکتب ہے جو معنویت، عقلانیت، عدالت، عوام پروری، مجاہدت اور خدمت کے ستونوں پر استوار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس عظیم راستے کو جاری رکھنے کا بہترین طریقہ نوجوانوں پر اعتماد کرنا، قومی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا اور اندرونی اختلافات سے بچ کر ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنا ہے۔







