خطے میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اعتماد اور تعاون ناگزیر ہے، ایرانی صدر

01 ستمبر, 2026 11:21

شیعیت نیوز : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور یکطرفہ پالیسیوں کے مقابلے میں باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کے 26ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خطے کو درپیش اہم سلامتی اور اقتصادی چیلنجز پر روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، داخلی امور میں عدم مداخلت اور حکومتوں کے درمیان تعاون پائیدار سلامتی کے حصول کے لیے بنیادی تقاضے ہیں۔

ایرانی صدر نے دہشت گردی، انتہاپسندی، منشیات کی اسمگلنگ اور سائبر جرائم کو بڑے خطرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال اور یکطرفہ پالیسیاں بھی باعث تشویش ہیں۔ مغربی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے مفاہمتِ اسلام آباد کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی ایران کے مؤقف پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں : مسلمانوں کا انتشار اور تفرقہ ان کی پسماندگی کا سبب ہے، شیخ ابراہیم زکزاکی

صدر پزشکیان نے اپنی تقریر میں سلامتی اور ترقی کو باہم مربوط قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تنظیم کو سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی معاملات پر بھی بیک وقت توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ، کسٹمز معاملات میں سہولت کاری، ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی ترقی، ٹرانزٹ کی استعداد بڑھانے اور سپلائی چینز کی لچک کو مضبوط بنانے کو اقتصادی تعاون کے اہم محور قرار دیا۔

اقتصادی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے انہوں نے ’’شنگھائی تعاون تنظیم بینک‘‘، برآمدات و سرمایہ کاری کے لیے انشورنس یونین، اور ’’شنگھائی تعاون تنظیم انرجی کنسورشیم‘‘ کے قیام کی تین تجاویز پیش کیں۔ علاوہ ازیں، سلامتی کے شعبے میں ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اسٹریٹجک سیکیورٹی اسٹڈیز سینٹر کے قیام کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ ایران تنظیم کی ترقی، کارکردگی اور باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے فعال اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

1:00 شام ستمبر 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔