آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ: علمی و اصلاحی خدمات کا ایک عظیم باب

22 اگست, 2026 17:27

شیعیت نیوز : آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ (10 اپریل 1932ء – 21 اگست 2023ء) برصغیر پاک و ہند کی شیعی علمی روایت کے ایک عظیم ستون تھے۔ انہوں نے اپنی تقریباً نو دہائیوں پر محیط زندگی میں علم کے حصول، تدریس، تصنیف، تحقیق، تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ میں ایسی خدمات انجام دیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

آیت اللہ نجفی ڈھکوؒ 10 اپریل 1932ء کو جہانیاں شاہ، ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رانا تاج الدین کی خواہش تھی کہ ان کے صاحبزادے دینی تعلیم حاصل کریں۔ 1945ء میں والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے اس عزم کو پورا کیا اور مولانا محمد حسین نجفی کو مدرسہ محمدیہ جلال پور ننکیانہ میں داخل کرایا۔ یہیں سے ان کے علمی سفر کا آغاز ہوا۔

انہوں نے پانچ سال کی عمر میں اسکول میں داخلہ لیا اور 1945ء میں مدرسہ محمدیہ جلال پور ننکیانہ میں باقاعدہ دینی تعلیم کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے علامہ شیخ حسین بخش جاڑا سے استفادہ کیا۔ 1947ء میں بدھ رجبانہ، ضلع جھنگ تشریف لے گئے اور علامہ سید محمد باقر نقوی چکڑالوی سے درسِ نظامی کے علوم حاصل کیے۔ 1949ء میں جلال پور گئے اور علامہ سید محمد یار شاہ نقوی سے تقریباً پانچ سال تک تعلیم حاصل کی۔

حوزہ علمیہ نجف اشرف میں قیام

علم کی جستجو اور اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کی خواہش انہیں 1954ء میں حوزۂ علمیہ نجف اشرف لے گئی۔ یہاں انہوں نے سطحیات کی تکمیل کے بعد اصولِ فقہ اور فقہ کے درسِ خارج میں شرکت کی۔ ان کے اساتذہ میں سید محمود شاہرودی، سید محسن الحکیم، سید ابو القاسم رشتی، سید جواد تبریزی، مرزا محمد باقر زنجانی، عبدالکریم زنجانی، مدرس افغانی، آقا بزرگ تہرانی اور سید عبدالاعلیٰ سبزواری جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت بنی امیہ کے طریقے پر چل رہی، امیروں کو نوازا جا رہا ہے غریبوں کا خون نچوڑ لیا گیا، آیت اللہ ریاض نجفی

تعلیمی و تصنیفی خدمات

1960ء میں مدرسہ محمدیہ سرگودھا کی دعوت پر واپس پاکستان آئے اور تقریباً بارہ سال تک اس مدرسے کے مدیر رہے۔ بعد ازاں انہوں نے سلطان المدارس الاسلامیہ اور جامعہ علمیہ عقیلہ بنی ہاشم کی بنیاد رکھی۔

ان کی دس جلدوں پر مشتمل تفسیر فیضان الرحمن ان کی علمی کاوشوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ دیگر اہم تصانیف میں مسائل الشریعہ (وسائل الشیعہ کا اردو ترجمہ)، احسن الفوائد فی شرح العقائد، اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ، اعتقادات امامیہ، قوانین الشریعہ فی فقہ الجعفریہ، خلاصۃ الاحکام، اسلام اور حرمتِ غنا، اسلام اور حرمتِ ریش تراشی اور اسلام اور وجوبِ نمازِ جمعہ شامل ہیں۔

اصلاحی کردار اور علمی استقامت

مولانا محمد حسین نجفیؒ کی دینی جدوجہد کا ایک اہم پہلو مجالس اور مذہبی محافل میں پائی جانے والی غیر مستند روایات، انحرافات اور غلو کے خلاف ان کی علمی کاوشیں تھیں۔ انہوں نے اصلاح المجالس و المحافل اور اصلاح الرسوم الظاہرہ بکلام العترت الطاہرہ جیسی کتب تصنیف کیں۔ اس علمی مؤقف کے باعث انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے علمی استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

سیاسی اور اجتماعی خدمات

وہ تحریک جعفریہ سے وابستہ رہے اور علامہ مفتی جعفر حسینؒ کی وفات کے بعد شیعیانِ پاکستان کی قیادت کے انتخاب کے لیے قائم مرکزی کونسل میں دیگر علما کے ساتھ مل کر مؤثر کردار ادا کیا۔

وفات اور علمی ورثہ

آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ 21 اگست 2023ء، بمطابق 4 صفر 1445ھ کو وفات پا گئے۔ ان کی علمی و عملی خدمات کو محفوظ کرنے کے لیے دو سوانحی کتب بھی لکھی گئیں: ملک افتخار حسین اعوان کی سرکار آیت اللہ نجفی کی عہد ساز شخصیت اور تاریخ ساز کارنامے اور طاہر عباس اعوان کی مردِ علم میدانِ عمل میں۔ ان کی اصل میراث وہ علم، فکر، تصانیف، ادارے، شاگرد اور علمی روایت ہے جو ان کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔

6:34 شام اگست 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔