علامہ مقصود علی ڈومکی کا فلسطین و غزہ کی حمایت میں اہم خطاب، "تولیٰ و تبری قرآنی تعلیمات کا حصہ”
علامہ مقصود علی ڈومکی
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ تولیٰ اور تبرّی قرآن و سنت کی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہیں۔ قرآن کریم نے ان پر لعنت کی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں، جبکہ رسول اکرمؐ نے اہل بیتؑ سے محبت اور مودت کو فرض قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص اللہ، رسولؐ اور آلِ محمدؑ کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کرتا ہے، وہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لکھی غلام شاہ کے شہر چک میں رہائیِ اسیرانِ شام کے سلسلے میں منعقدہ 78ویں سالانہ مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں عزادارانِ امام حسینؑ نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو پڑوسی ممالک سے نئے سکیورٹی انتظامات کے پیغامات موصول، قالیباف کا اہم بیان
علامہ ڈومکی نے کہا کہ مجلسِ عزاء صرف غم و سوگ کا نام نہیں، بلکہ شعور، بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج فلسطین اور بالخصوص غزہ میں دہشتگرد امریکی حکومت اور دہشتگرد اسرائیلی رجیم کی جانب سے جاری ظلم و بربریت پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ غزہ میں معصوم بچوں، خواتین اور عام شہریوں کا قتل، آبادیوں کی تباہی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر فلسطین کے مظلوم عوام کے حق میں مؤثر اور متحد آواز بلند کرے۔
انہوں نے دہشتگرد اسرائیلی رجیم کو خطے میں سرطان کے پھوڑے کی مانند قرار دیا اور کہا کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی اور فلسطین پر قبضے کی پالیسی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کی مظلوم اقوام سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ایران اور رہبرِ شہید کی استقامت کو اپنے لیے اسوۂ حسنہ سمجھتی ہیں۔







