سکردو میں علمی و تحقیقی تقریب، شہید رہبر کی فکر پر مقالہ نویسی کے مقابلے میں انعامات تقسیم

22 اگست, 2026 14:05

شیعیت نیوز : حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو بلتستان پاکستان میں ایک پروقار علمی و تحقیقی تقریب منعقد ہوئی؛ جس میں شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی فکری و علمی خدمات، قیامِ امام حسین کے فلسفے اور عصرِ حاضر میں اسلامی فکر و تہذیب کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ مقالہ نویسی و مضمون نویسی کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ تقریب میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی کے شعبۂ تحقیق کے مسئول مولانا شیخ سکندر علی بہشتی کی مختلف ورکشاپ اور نشستوں کی صورت میں انجام دی جانے والی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

تقریب میں جامعۃ النجف کے پرنسپل علامہ شیخ محمد علی توحیدی، مہمانِ خصوصی محقق و مؤلف جناب محمد حسن حسرت، حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی، حجۃ الاسلام شیخ احمد نوری، حجۃ الاسلام شیخ سکندر علی بہشتی، حجۃ الاسلام ڈاکٹر محمد علی ممتاز، حجۃ الاسلام شیخ محمد علی ذاکری، شیخ غلام حسن جعفری، شیخ محمد جان حیدری، آغا زمانی، شیخ ابراہیم نوری، شیخ عبداللہ، محمد اسلم ناز شگری، علماء و اساتذہ، طلبہ اور مختلف علمی و دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے توحید و ایمان کے بعد علم، تفکر، تدبر اور تحقیق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ دینی مدارس کی بنیادی ذمہ داری صرف علوم کی منتقلی نہیں، بلکہ تحقیقی مزاج، علمی بصیرت اور دلیل و استدلال کی تربیت بھی ہے۔ انہوں نے شہید مطہری کے افکار کی روشنی میں پیغام کی کامیابی کے چار بنیادی عناصر بیان کیے۔

جامعۃ النجف کے استاد شیخ سجاد حسین مفتی نے علم و تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو کسی بات کو محض اس لیے قبول نہیں کرنا چاہیے کہ فلاں شخص نے کہہ دیا ہے، بلکہ ہر معاملے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے غور و فکر اور تحقیق ضروری ہے۔ طلباء نے شہید رہبر کی فکر، اسلامی تہذیب اور قیامِ امام حسین کے فلسفے جیسے موضوعات پر تحقیقی مضامین پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی ذہن کو ڈیجیٹل انداز سے مفلوج کر کے اس کے شعور پر حملہ کیا جا رہا ہے، علامہ ساجد علی نقوی

محقق و مؤلف محمد حسن حسرت نے علم و تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطابت اور تقریر کے اثرات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن کتاب، مقالہ اور تحقیقی تحریر کا اثر زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔ جامعۃ النجف کے پرنسپل نے کہا کہ بلتستان کے نوجوانوں میں علمی صلاحیتیں غیر معمولی ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو مناسب سمت اور تحقیقی تربیت فراہم کی جائے۔

شیخ سکندر علی بہشتی نے کہا کہ آج سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اسلامی پیغام کی ترسیل کے مؤثر ذرائع ہیں۔ انہوں نے شہید رہبر کے "دوسرے مرحلے” کے تصور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کی اگلی منزل تمدن سازی ہے اور مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی علم و تحقیق، اخلاق، معیشت، عدالت اور اسلامی طرزِ زندگی کا جامع متبادل دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

2:53 شام اگست 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔