حکومتی رویے نے قانون کی بالادستی کو مجروح کیا، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

21 اگست, 2026 11:52

شیعیت نیوز : پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستانی عوام سیاسی ناانصافیوں، عوامی مینڈیٹ کی پامالی، انتخابی نشان چھینے جانے، مخصوص نشستوں سے محرومی، عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے والی ترامیم، ہوشربا مہنگائی، معاشی مشکلات اور بدامنی کے باعث شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے یہ امید پیدا کی کہ شاید ملک دوبارہ انصاف، قانون کی بالادستی اور قومی مفاہمت کی طرف بڑھ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ میں کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکن کی 8 سالہ بچی سے وحشیانہ زیادتی

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ان کی ہمشیرہ اور معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کے فیصلے سے عوام نے سکھ کا سانس لیا، مگر حکومتی طرزِ عمل نے اس امید کو ایک بار پھر مجروح کر دیا۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کو شفا اور ان کی ہمشیرہ کو پمز لے جانا، جبکہ متعلقہ افراد کو واضح طور پر اعتماد میں نہ لینا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

یہ طرزِ عمل محض ایک عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں بلکہ عدلیہ کے وقار، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اعتماد پر سوالیہ نشان ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب فیصلے اپنی مرضی کے مطابق ہوں تو عدالتوں اور قانون کی بالادستی کے وعظ دیے جاتے ہیں، لیکن جب فیصلہ پسند کے خلاف آئے تو اسے نظرانداز کرنے کی روش اختیار کی جاتی ہے۔ ماضی میں بھی سپریم کورٹ پر حملے کی تاریخ رکھنے والوں کی جانب سے آج عدالتی فیصلے کو متنازع بنانا ایک تلخ حقیقت ہے۔

پاکستان مزید انتقام، تصادم اور اداروں کی بے توقیری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو مایوس ہونے کے بجائے اپنے حوصلے بلند اور ارادے مضبوط رکھنے ہوں گے۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، ظالم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ ان شاء اللہ قانون، انصاف اور حق کی بالادستی ہوگی، ظالموں کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور پاکستان کے عوام اپنے آئینی و جمہوری حقوق کے لیے ثابت قدم رہیں گے۔ عمران خان عوام کے دلوں میں ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے لوگوں کے حوصلے کسی دباؤ سے متزلزل نہیں ہوں گے۔

12:42 شام اگست 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔