ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے کے تعین کے قریب، عراقچی نے امریکی مداخلت کو مسترد کر دیا
عباس عراقچی
شیعیت نیوز : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کے ساتھ جاری مذاکرات، پاکستان کے ساتھ مفاہمت نامے کی خلاف ورزی اور بحیرۂ خزر سے متعلق کنونشن کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے راستے کے تعین کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی کا بحری راستہ اب ایران کے لیے قابل قبول نہیں اور ایک نیا راستہ طے کرنے کی ضرورت ہے۔
عراقچی نے کہا کہ نئے راستے کے تعین کا معاملہ تکنیکی اور قانونی پیچیدگیوں کا حامل ہے، اس لیے پہلے ایک عارضی راستہ مقرر کیا جائے گا جو بعد میں حتمی راستے کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی عسکری اور بحری افواج کے درمیان نقشوں کی بنیاد پر مذاکرات ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کی خواتین بھی وارداتوں میں گرفتار، دوران حراست ہلاک
پاکستان کے ساتھ مفاہمت نامے کی خلاف ورزی کے بارے میں عراقچی نے کہا کہ یہ خلاف ورزی دہشتگرد امریکی حکومت کی جانب سے کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے مفاہمت نامے کی پانچویں شق پر عمل درآمد جاری رکھا اور تقریباً دو ہفتوں میں بحری آمدورفت معمول کی سطح کے 60 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم امریکہ نے آبنائے ہرمز میں نئے راستے قائم کرکے ایران کے کردار کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے متعدد مرتبہ انتباہ کیے جانے کے باوجود امریکی مداخلت قابل قبول نہیں ہے۔







