چھ ماہ کی جنگ کے بعد امریکہ کا اعتراف: ایران کی مزاحمت نے دہشت گرد ٹرمپ کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا

08 اگست, 2026 08:54

شیعیت نیوز : دہشت گرد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ چھ ماہ بعد ایک پیچیدہ تزویراتی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ابتدائی طور پر جس جنگ کو محدود اور مختصر فوجی کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، وہ وقت گزرنے کے ساتھ واشنگٹن کے لیے سیاسی، عسکری اور سفارتی سطح پر اضافی دباؤ کا باعث بنی ہے۔ ایران نہ صرف اپنے بنیادی مؤقف پر قائم رہا ہے بلکہ اس نے اپنی علاقائی روابط، دفاعی صلاحیتوں اور غیر متناسب جنگی حربوں کے ذریعے امریکی افواج اور اس کے اتحادیوں کے لیے جنگ کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔

واشنگٹن کو توقع تھی کہ شدید اقتصادی اور فوجی دباؤ ایران کی داخلی صورتحال کو متاثر کرے گا، لیکن عملی صورت حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئی ہے۔ ایران نے دباؤ کے باوجود اپنی بنیادی پالیسیوں میں نمایاں پسپائی اختیار نہیں کی اور متبادل حکمت عملی کے ذریعے جنگ کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ پینٹاگون کی خفیہ رپورٹس میں اہم ہتھیاروں اور درست نشانہ بنانے والے گولہ بارود کے ذخائر میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے امریکی فوج کے لیے بیک وقت متعدد محاذوں پر طویل کارروائیاں جاری رکھنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یمن کا سعودی جارحیت میں شامل ہونے والے فریقوں کو سخت انتباہ

ماہرین کے مطابق ایران جنگ نے امریکہ کی عالمی ساکھ اور اس کے اتحادیوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خلیج فارس کے عرب ممالک امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر نئے سوالات اٹھا رہے ہیں اور ایران آبنائے ہرمز میں اپنا مؤثر کردار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یورپی ممالک میں بھی واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر بے اعتمادی بڑھ رہی ہے۔ اس جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ اکیلی فوجی طاقت کسی پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی بحران کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتی، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ امریکہ کے لیے سب سے بڑا نقصان عالمی اعتماد کا مزید کمزور ہونا ہے۔

9:48 صبح اگست 8, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔