فوجی تعطل کو چھپانے کے لیے ٹرمپ کی سفارتی پناہ گاہ، ٹیکنالوجی کمپنیاں مشرق وسطیٰ سے فرار، وال اسٹریٹ جرنل
ٹیکنالوجی کمپنیاں
شیعیت نیوز : وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کامیابی کی ناامیدی کے بعد سفارت کاری کا سہارا لے رہی ہے، جو جنگ کے ذریعے اہداف حاصل کرنے میں امریکہ کی ناکامی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا عکاس ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں مشرق وسطیٰ میں اپنے منصوبوں کو جاری رکھنے کے بارے میں تردد کا شکار ہیں۔ اس جنگ نے نہ صرف توانائی کی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) جیسی اہم صنعت میں سرمایہ کاری کی حفاظت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں (بشمول یزیدی سعودی رجیم) کے لیے سنگین معاشی نتائج ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی رجیم پالیسیوں میں اصلاح کرے ورنہ ہر جگہ سے مدد کی بھیک مانگنی پڑے گی، ایرانی رکن پارلیمنٹ
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی حکمت عملی "فرسودگی” پر مبنی ہے، جس میں وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اخراجات بتدریج بڑھا رہا ہے تاکہ تصادم جاری رکھنا تہران کے مطالبات ماننے سے زیادہ مہنگا پڑے۔ یہ حکمت عملی محورِ مقاومت کی پائیداری کا ایک اور ثبوت ہے، جس نے امریکہ اور یزیدی سعودی رجیم کو فوجی اور معاشی طور پر پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔







