دہشتگرد ٹرمپ کی ایران جنگ چھٹے ماہ میں داخل، امریکی صدر پیچیدہ سیاسی و عسکری مشکل میں پھنس گئے
ٹرمپ
شیعیت نیوز : دہشتگرد ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف شروع کردہ جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی ہے، اور موجودہ حالات سے لگتا ہے کہ امریکی صدر ایک پیچیدہ سیاسی اور عسکری مشکل میں گھر چکے ہیں جس سے نکلنے کا ان کے پاس کوئی آسان راستہ موجود نہیں۔ دہشتگرد ٹرمپ، جنہوں نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، اب ایک ایسے تنازعے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو نہ صرف طول پکڑ چکا ہے بلکہ امریکی عوام میں بھی غیر مقبول بنتا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دہشتگرد ٹرمپ اس وقت بنیادی طور پر دو بڑی آپشنز کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ پہلی آپشن ایران کے لیے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی، جبکہ دوسرا راستہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل دہشتگرد ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ قلندیہ کیمپ پر اسرائیلی دہشتگردی: سات مکانات منہدم، 51 فلسطینی زخمی، 70 گرفتار
واضح رہے کہ ایران اور محورِ مقاومت کی "فرسودگی” کی حکمت عملی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں (بشمول یزیدی سعودی رجیم) کے لیے اخراجات میں بتدریج اضافہ کر دیا ہے، جس سے دہشتگرد ٹرمپ انتظامیہ کو سفارتی پناہ گاہ تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق فوجی تعطل کو چھپانے کے لیے دہشتگرد ٹرمپ کی سفارتی کوششیں دراصل امریکی ناکامی کا اعتراف ہیں۔







