شہید عارف الحسینیؒ کی 38ویں برسی پر سکردو میں پروقار تعزیتی ریفرنس، مقررین کا مکتبِ امام خمینیؒ کو خراجِ تحسین

06 اگست, 2026 12:20

شیعیت نیوز : شہیدِ مظلوم، قائدِ محبوب علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمتہ اللہ علیہ کی 38ویں برسی کے موقع پر ملتِ تشیع بلتستان پاکستان کے زیرِ اہتمام مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو میں ایک پروقار تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ تعزیتی ریفرنس کی صدارت داعیِ وحدت، امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کی، جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی رہنما، چیف آرگنائزر سید ڈاکٹر ناصر شیرازی اور حجۃ الاسلام اشرف تابانی نے خطاب کیا۔

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ نے امام خمینی قدس سرۃ کے انقلابی مکتب کو پاکستان میں متعارف کرواتے ہوئے ملت کو وحدتِ امت، بصیرت، شعور، استقلال اور دشمن شناسی کا عملی درس دیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی اقدار کے تحفظ، امتِ مسلمہ کے اتحاد، قومی خودمختاری اور استعماری سازشوں، فرقہ واریت اور غلامانہ ذہنیت کے خلاف جدوجہد میں وقف کر دی۔ مقررین نے کہا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ کسی باطل طاقت سے مرعوب نہیں ہوتا، اور آج بھی عالمی استکبار مکتبِ امام خمینیؒ سے خوفزدہ ہے، کیونکہ یہی فکر مسلمانوں کو عزت، آزادی، خوداعتمادی اور استقلال کا راستہ دکھاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فارن افرز کا اعتراف: محورِ مقاومت نے امریکی-صہیونی دباؤ کو ناکام بنا دیا

مقررین نے شہید رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے فرامین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکتبِ امام خمینیؒ امتِ مسلمہ کی عزت، بیداری، خودمختاری اور مزاحمتی فکر کا سرچشمہ ہے، اسی لیے عالمی استعمار اسے اپنے مفادات کے لیے سب سے بڑی فکری رکاوٹ سمجھتے ہوئے مسلسل اس کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شیعہ اور سنی باہمی احترام، اخوت اور مشترکہ دشمن (یزیدی تکفیریوں اور منافق عرب) کے مقابلے میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر شہداء کے بلندیٔ درجات، پاکستان کے استحکام، امتِ مسلمہ کے اتحاد، قائدِ شہیدؒ کے افکار کے فروغ، مظلوم مسلمانوں (فلسطین، غزہ، یمن، لبنان) کی نصرت اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

1:33 شام اگست 6, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔