اسلام آباد میں رہبرِ شہید امت کی یاد میں پروقار تعزیتی و تکریمی تقریب، شیعہ و سنی علماء کا اتحادِ امت پر زور

30 جولائی, 2026 15:38

شیعیت نیوز : جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ نمائندگی پاکستان کے زیر اہتمام جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں رہبرِ شہید امت کے مقام و مرتبہ اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک پروقار تعزیتی و تکریمی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیعہ و سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، دانشوروں، طلاب اور مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز قاری سید یحییٰ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ اویس رضا نے منظوم انداز میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اہلِ سنت کے ممتاز علماء مفتی گلزار احمد نعیمی اور مفتی سید طیب ترمذی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب کا بنیادی پیغام مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت کا فروغ ہے، لہٰذا ہر وہ عمل جو امتِ مسلمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچائے، شہداء کے مشن کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید نے اپنی شہادت کے ذریعے اسلامِ ناب اور تشیع کے حقیقی تشخص کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا، انسانی کرامت کا دفاع کیا، امریکہ و اسرائیل کے رعب کو خاک میں ملایا اور فلسطین کاز کو زندہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی مبلغ کا اربعین کے حقیقی پیغام پر تبصرہ؛ “زیارتِ حسینؑ کے ساتھ زینبؑ کے عظیم کردار کا تذکرہ ناگزیر”

بعد ازاں ممتاز شیعہ علماء، جن میں امام جمعہ اسلام آباد حجۃ الاسلام شیخ محمد شفاء نجفی، پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ سید افتخار حسین نقوی، جامعۃ الکوثر کے نمائندہ شیخ فدا حسین مطہری، اور شیخ ساجد علی سبحانی نے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ شہید کی علمی، فکری اور قائدانہ خصوصیات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ انہوں نے حکمت اور بصیرت کے ساتھ انقلاب کی رہنمائی کی اور بالآخر روزے کی حالت میں شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے۔

تقریب کے اختتامی سیشن سے مہمان خصوصی، قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ شہید کی شہادت پر تعزیت پیش کی اور فرمایا کہ ہمیں انقلاب کا مختلف پہلوؤں سے عمیق مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ رہبر شہید کے حقیقی کردار کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے ظلم و استبداد کے خلاف مقاومت اور اتحاد بین المسلمین کو رہبرِ شہید کے مقدس خون کے آثار قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ شہید کے مشن کو زندہ رکھنا اور اس راہ میں قیام کرنا شہید امت کی روح پاک سے عہد و پیمان کا تقاضا ہے۔

واضح رہے کہ اس تقریب کا انعقاد ایسے وقت میں ہوا ہے جب عراق میں امریکی-سعودی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری ہے، یمن نے ریاض کو نشانہ بنایا ہے، اور عالمی سطح پر اربعین کا پیغامِ مقاومت تازہ ہے۔ پاکستانی علماء کا اتحادِ امت اور فلسطین کاز کے دفاع پر زور خطے میں استکبار مخالف جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔

4:44 شام جولائی 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔