کربلا پر بمباری، مساجد تباہ، نمازی شہید، محمد بن سلمان کے پالتو طاہر اشرفی کی زبان پر تالہ

29 جولائی, 2026 11:29

شیعیت نیوز : جب آلِ سعود اور امریکی سامراج نے مل کر اربعین کے مقدس موقع پر کربلائے معلیٰ کے قریب مساجد پر بم برسائے، قرآنِ مجید کی بے حرمتی کی اور نمازیوں کو شہید کیا تو پاکستان کے نامور سعودی پالتو مولانا طاہر اشرفی کی زبان پر ایک لفظ نہیں آیا۔

یہ وہی طاہر اشرفی ہیں جو ہر چھوٹے بڑے معاملے پر فوری بیانات جاری کرتے ہیں، ہر موقع پر مائیک کے سامنے نظر آتے ہیں لیکن جب محمد بن سلمان کے حکم پر مسلمانوں کے مقدس شہر کربلا کے قریب مسجد کو بم سے اڑایا گیا تو ان کی زبان مکمل طور پر بند ہو گئی۔ کیوں؟ اس لیے کہ ان کے گلے میں سعودی ریال کا پٹا پڑا ہوا ہے اور پالتو کتا کبھی اپنے آقا کے خلاف نہیں بھونکتا۔

یہ پہلی بار نہیں کہ طاہر اشرفی نے سعودی جرائم پر خاموشی اختیار کی ہو۔ جب یمن میں بارہ سال سے یہود و نصاریٰ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتلِ عام جاری ہے، جب سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر امریکی اور صہیونی فوجی اڈے دیے، جب جنت البقیع اور مقدس مقامات کو مسمار کیا گیا، تب بھی یہ مولانا صاحب خاموش رہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی پالتو تقی عثمانی کا اصل چہرہ بے نقاب، ٹی ٹی پی کا شیخ الاسلام کربلا پر حملے پر خاموش

پاکستانی عوام سے سوال ہے کہ جو مولوی اسلام کے لیے نہیں بلکہ سعودی ریال کے لیے بولے، جس کی زبان کربلا پر بمباری پر بند ہو اور جو اربعین کے مقدس موقع پر نواسۂ رسولؑ کی سرزمین پر حملے کی مذمت نہ کر سکے، کیا ایسا شخص پاکستانی مسلمانوں کا نمائندہ کہلانے کا حق رکھتا ہے؟

طاہر اشرفی کی یہ خاموشی بتاتی ہے کہ ان کا اسلام سعودی دربار کا اسلام ہے، امتِ مسلمہ کا اسلام نہیں۔

12:55 شام جولائی 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔