آلِ سعود اور امریکی سامراج کا انبیاء، آئمہ اور اولیاء کی مقدس سرزمین عراق پر حملہ، شیعہ سنی مسیحی محافظ شہید
شیعیت نیوز : عراق انبیاء، آئمہ اور اولیاء کی مقدس سرزمین ہے جسے تمام مسالک و مذاہب کے مسلمان یکساں عقیدت سے دیکھتے ہیں، گزشتہ رات آلِ سعود اور امریکی سامراج نے مشترکہ طور پر اس مبارک سرزمین کو نشانہ بنا کر ایک گھناؤنا جرم کیا۔
اس بزدلانہ حملے میں حشد الشعبی کے 20 محافظ شہید ہوئے جو عراق میں مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے بنائی گئی فورس کے رکن تھے۔ یہ فورس کسی ایک مسلک کی نہیں بلکہ اس میں شیعہ، سنی، حنفی، مالکی، سلفی سمیت تمام مسالک کے نوجوان اور مسیحی بھائی بھی شامل ہیں جو مل کر عراق کی مقدس سرزمین کا دفاع کر رہے تھے۔
آلِ سعود نے امریکی سامراج کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بغداد، بصرہ اور کربلا کے علاقوں کو نشانہ بنایا اور ثابت کیا کہ انہیں مسلمانوں کے مقدسات کی کوئی پرواہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سعودی دہشتگرد جارحیت، عراق بھر میں حشد الشعبی کے ہیڈکوارٹرز پر حملے، 20 مجاہدین شہید
سوال یہ ہے کہ جو علماء اور مذہبی رہنما ہر چھوٹے بڑے واقعے پر بیان جاری کرتے ہیں کیا وہ آج مقدس سرزمین عراق پر حملے کی مذمت کریں گے؟ کیا مولانا طاہر اشرفی صاحب اس بار بھی خاموش رہیں گے یا آلِ سعود کے اس جرم کی کھل کر مذمت کریں گے؟
دنیا بھر کے مسلمان اس وقت یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جب تمام مسالک کے مسلمان اور مسیحی بھائی مل کر عراق کی مقدس سرزمین کا دفاع کر رہے تھے تو کیا ہمارے علماء کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ان کے قاتلوں کی بھرپور مذمت کریں۔







