انصار اللہ کا پاکستان کو سوالیہ پیغام: جو اپنے لیے قبول نہیں، یمن کے لیے کیوں؟

24 جولائی, 2026 11:36

شیعیت نیوز : صنعاء پر عوام کی حمایت سے حاکم (یمن کے انصار اللہ) کی قیادت سے وابستہ محمد الفرح نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور بحر احمر میں جہاز رانی کی سیکورٹی پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے نام ایک سوالیہ پیغام جاری کیا۔

محمد الفرح نے کہا کہ کیا پاکستان یہ قبول کرے گا کہ کوئی دوسرا ملک اس کے ہوائی اڈوں پر ایسا کنٹرول قائم کر دے کہ نہ کوئی مریض علاج کے لیے بیرونِ ملک جا سکے، نہ کوئی طالب علم تعلیم حاصل کر سکے اور نہ ہی کوئی تاجر تجارت کر سکے، جب تک اسے اجازت نہ دی جائے؟

کیا پاکستان یہ گوارا کرے گا کہ اس کی بندرگاہوں پر بیرونی نگرانی مسلط کر دی جائے، اور سامانِ تجارت صرف بیرونی اجازت، شرائط اور اضافی اخراجات کے ساتھ ہی ملک میں داخل ہو؟

یہ بھی پڑھیں : سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا عراقی سفارت خانے کا دورہ، اربعین زائرین کے مسائل پر تفصیلی گفتگو

اور کیا پاکستان اس بات پر راضی ہوگا کہ کوئی دوسرا ملک اس کے حکام کی تقرری، داخلی معاملات اور خودمختار فیصلوں میں مداخلت کرے؟

حوثی ذمہ دار محمد الفرح نے کہا کہ جس چیز کو آپ اپنے ملک کے لیے قبول نہیں کرتے، وہ یمنی عوام کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے، اور نہ ہی اس کے تسلسل کے لیے سیاسی حمایت فراہم کی جانی چاہیے۔

پیغام میں پاکستان سے، جس نے ماضی میں خطے میں ثالثی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی ہیں، اپیل کی گئی کہ وہ محصور اور متاثرہ یمنی عوام کے خلاف کسی بھی ظلم کا حصہ نہ بنے۔

1:09 شام جولائی 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔