رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام: امریکی دستخط بے وقعت اور ناقابلِ اعتماد

18 جولائی, 2026 17:08

شیعیت نیوز : رہبر معظم انقلاب کا رہبر شہید ایران کے عظیم الشان جنازے اور ملک کے اہم مسائل کی وضاحت سے متعلق پیغام

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

اے عظیم مرتبت اور حیرت انگیز ملت ایران!

آپ پر سلام، درود اور سپاس ہو کہ آپ نے اپنے بےنظیر اور تاریخی حماسے، رہبر شہید ایران کے بےمثال جنازے کے اس انقلاب میں، قدرشناسی، وفاداری، بصیرت اور امت اسلامی کے زعیم اور انقلاب کے شہید رہبر سے بےپناہ محبت کے اظہار کے ذریعے اسلامی-ایرانی تشخص کی بعثت اور مضبوط ارادے کا ایک نیا معیار قائم کیا۔ دکھے دلوں کی گرمجوشی، آنسوؤں بھری آنکھیں اور دسیوں ملین افراد پر مشتمل اور دسیوں کلومیٹر طویل ہجوم کا پختہ عزم، جو تہران، قم، مشہد اور دیگر شہروں اور دیہاتوں میں جمع تھا، نے ایرانی قوم کے دوستوں اور دنیا کی آزاد خیال عوام کو داد و تحسین پر آمادہ کر دیا، جبکہ ایرانی قوم کے استکباری دشمنوں کو حیرت، سرگردانی، غیظ و غضب اور دہشت میں مبتلا کر دیا۔

اس حماسہ کے ساتھ ہی، شیطانِ اعظم کی ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی بار بار خلاف ورزی نے ایک بار پھر سب پر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ امریکی صدر کا دستخط کتنا بے وقعت اور ناقابلِ اعتبار ہے، اور زبردستی، توسیع پسندی اور وحشیانہ پن، امریکی مسلک کے لازم و ملزوم اجزاء ہیں۔

آج شیطانِ اعظم نے ایک بار پھر اپنا اصلی اور بے نقاب چہرہ ظاہر کر دیا ہے تاکہ جرم اور بدعہدی کا یہ تاریک تجربہ امریکہ کے جھوٹ، غیر منطقی، ناقابلِ اعتماد اور پلید ہونے کا ایک اور مضبوط ثبوت بن جائے۔

اب جب کہ امریکی دشمن جنگ بھڑکانے اور مزید نقصان اور بے عزتی برداشت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ عزیز ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ اس کے لیے ناقابلِ فراموش سبق رکھتا ہے، جن کی مثالیں ان دنوں مجاہدینِ اسلام کی بہادری اور جنوبی علاقے کے بہادر افراد کی غیرت نے پیش کی ہیں۔

اس موقع پر آپ باوفا اور سرفراز ایرانی عوام کے سامنے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اس دور کے بنیادی ترین امور میں سے ایک، عوام اور ذمہ داران کی تمام سطحوں اور تمام شعبوں میں کلمہ اتحاد اور مقدس یکجہتی پر اصرار ہے تاکہ انقلاب اسلامی کے بلند مقاصد کے حصول اور عزیز ایران کی عزت و استقلال کے تحفظ کے لیے، خاص طور پر مجرم اور حیلہ گر امریکی دشمن کے مقابلے میں، کامیابی حاصل ہو۔

جیسا کہ اس سے قبل بارہا تاکید کی جا چکی ہے، اتحاد کی حفاظت اور تفرقہ، نزاع، سیاسی اختلافات اور سماجی تفاوتوں کو اجاگر کرنے سے پرہیز، سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور بلاشبہ اس انسجام و یکجہتی میں ذمہ داران اور انقلاب، امام اور شہید رہبر کے دلسوز و دلباختہ عناصر کا کردار سب سے اہم اور حساس ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ساہیوال میں کالعدم لشکر جھنگوی کے مولوی کی بچوں کے ساتھ بدفعلی اور خواتین کے ساتھ زنا بالجبر

اس بنیاد پر عزیز قوم، دلسوز ذمہ داروں پر بھروسہ برقرار رکھتے ہوئے (جن کی ملت کی فلاح و خوشی کے لیے کوششیں عیاں ہیں)، اسی طرح ایران اسلامی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہوشیار اور میدان میں سرگرم رہے گی۔ ممکن ہے کہ کچھ افراد تمام اخلاص اور خیرخواہی کی بنیاد پر بعض ذمہ داروں کی کارکردگی پر تنقید کریں۔ میری نظر میں، اگرچہ نظام کے لیے ان کی یہ توجہ اور فکر، خود ان افراد کی طرح، ایک قابلِ قدر سرمایہ شمار ہوتی ہے اور بذاتِ خود ایک مطلوبہ امر ہے، تاہم ان عزیزان (جن میں سے بعض بصیرت کے علمبرداروں میں سے ہیں) کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ یہ رویہ، اولاً کسی پر ظلم اور زیادتی کا باعث نہ بنے (کیونکہ یہ خود برکتوں اور عنایات سے محرومی کا سبب بنتا ہے) اور ثانیاً سماجی اتحاد و انسجام میں رخنہ کا موجب نہ بنے۔ ان نکات کے تحفظ کے ساتھ، تنقیدیں امور کی رونق اور شگفتگی کا باعث بنیں گی۔ دشمن کو ہم میں کوئی ضعف (کمزوری) نظر نہیں آنا چاہیے، بشمول یہ کہ اگر ہم نے ان احتیاطوں کو مکمل طور پر ملحوظ رکھا تو وہ مجبوراً شکست سے دوچار ہو جائے گا۔

ایک بار پھر ملت کے ایک ایک عزیز فرد سے، جو خود امت کے شہید باپ کے سوگوار ہیں اور جنہوں نے مشکلات، بعض پابندیوں اور ناگواریوں کے باوجود شہید ایران کے عظیم جنازے کے موقع پر ایک تاریخی حماسہ تخلیق کیا، میں دلی طور پر شکرگزار ہوں۔

نیز میں معزز مراجع تقلید، علمائے کرام، دانشوروں اور نخبگان، ثقافتی، سماجی اور سیاسی کارکنوں، شہری اور فوجی اداروں کی کاوشوں اور اقدامات اور سرافراز مزاحمتی محاذ اور اسلامی تحریکوں کے عہدیداروں اور نمائندگان کی شرکت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امید ہے کہ تمام وہ افراد جنہوں نے اس تاریخی حماسے میں کسی بھی طور پر شرکت، ہمراہی اور ہمدلی کا مظاہرہ کیا، ہمارے آقا (امام زمانہ) عَجَّلَ اللَّهُ تَعَالَى فَرَجَهُ الشَّرِيفَ (اللہ تعالی ان کے ظہور کو جلدی فرمائے) کی خاص توجہ اور دعا سے مشمول ہوں۔

سید مجتبی حسینی خامنه ای ۲۶ تیر ۱۴۰۵ ہجری شمسی (مطابق ۱۷ جولائی ۲۰۲۶ء)

7:27 شام جولائی 18, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔