اگر امام حسینؑ یزید کی بیعت کر لیتے تو کیا ہوتا؟
شیعیت نیوز : کربلا کا واقعہ محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ اسلام کی بقا اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اگر امام حسین علیہ السلام یزید کی بیعت قبول کر لیتے تو اس کے نتیجے میں ایک ظالم، فاسق اور دین کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنے والے حکمران کو اسلامی جواز حاصل ہو جاتا۔ ایسی صورت میں اسلام کی حقیقی تعلیمات رفتہ رفتہ مسخ ہو جاتیں اور چند نسلوں بعد دین صرف ایک نام بن کر رہ جاتا۔
یہ بھی پڑھیں : دشمن نے رہبر شہید کی شہادت میں بڑی غلطی کی، آیت اللہ سید محمد سعیدی
مرحوم علامہ محمد تقی مصباح یزدیؒ نے اسی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ امام حسینؑ کے پیروکار کی فکر صرف اپنی ذاتی نجات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے پورے معاشرے کے دین کی حفاظت کی فکر بھی ہونی چاہیے۔ امام حسینؑ کے ذاتی دین کو کوئی خطرہ نہیں تھا، اصل خطرہ اسلام کے اجتماعی وجود اور اس کی بقا کو لاحق تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امام حسینؑ یزید کی بیعت کر لیتے اور شہادت کا راستہ اختیار نہ کرتے تو اس دور کے حالات کے پیش نظر اسلام بتدریج اپنی حقیقی روح کھو دیتا اور زیادہ سے زیادہ ایک یا دو نسلوں کے بعد اس کا صرف نام باقی رہ جاتا۔
اسی لیے امام حسینؑ نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیت علیہم السلام اور اپنے باوفا اصحاب کی قربانی پیش کی۔ امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی قربانی نے امت کو غفلت سے بیدار کیا، ظلم کے خلاف مزاحمت کا شعور پیدا کیا اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنی شہادت کے ذریعے نہ صرف دین کی حفاظت کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے حق، عدل، آزادی اور عزتِ نفس کا ایسا ابدی پیغام چھوڑا جو قیامت تک زندہ رہے گا۔
منبع: کتاب جان ها فدای دین، ص۵۰ و ۵۱







