پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ: ایک حقیقت پسندانہ جائزہ

13 جولائی, 2026 16:21

شیعیت نیوز : پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ معاہدہ صرف سعودی عرب پر حملے کی صورت میں دفاعی ہے، جبکہ سعودی جارحیت (یمن، ایران یا امریکہ-اسرائیل کے ساتھ مل کر کسی اسلامی ملک پر حملہ) کا احاطہ نہیں کرتا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان سعودی جارحیت کا شریکِ جرم بنے گا؟ اگر ہاں تو ہم نے اپنی خودمختاری بیچ دی۔

یہ بھی پڑھیں : سپاہ پاسداران کا امریکہ کے خلاف پانچ مرحلوں پر مشتمل جوابی حملہ: اردن، بحرین، کویت اور عمان میں امریکی اڈے تباہ

ہم مکہ و مدینہ کے لیے جان دینے کو تیار ہیں، مگر اسلام کے پہلے قبلے بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) پر اسرائیلی قبضے اور فلسطینیوں کے قتلِ عام پر خاموش ہیں۔

یہ معاہدہ پاکستان کو "ایٹمی اسلامی طاقت” سے "ادائیگی یافتہ فوجی ٹھیکیدار” میں تبدیل کر سکتا ہے۔

جیوپولیٹیکل نقصان: سعودی-امریکی-اسرائیلی محور کا حصہ بننا ہمارے حقیقی دوستوں (چین، ایران، روس، ترکی) سے دوری اور سرحدی عدم استحکام کو دعوت دینا ہے۔

10:20 شام جولائی 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔