عزاداری امام حسینؑ ارادۂ الٰہی ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، مولانا سید کلب جواد نقوی
شیعیت نیوز : امام بارگاہ غفران مآبؒ میں عشرۂ محرم الحرام کی دوسری مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید کلب جواد نقوی نے ارکان حج کے ذریعے عزائے امام حسینؑ پر ہونے والے اعتراضات کی تردید کی۔
انہوں نے کہا کہ آج قبروں کے طواف اور ائمہ معصومینؑ کی زیارت کو شرک اور بدعت کہا جاتا ہے جبکہ طواف کعبہ کے دوران انبیاء کی قبروں کا طواف بھی ہوتا ہے اور حجر اسود کو بوسہ دینا طواف کا جزو ہے۔ اگر بھیڑ کی وجہ سے حجر اسود تک پہنچنا دشوار ہو تو دور سے استسلام ضروری ہے۔ لہٰذا جب دور سے حجر اسود کو استسلام کیا جا سکتا ہے تو ائمہ معصومینؑ کو سلام کیوں نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسین علیہ السلام نورِ خدا اور چراغِ ہدایت ہیں، علامہ مقصود علی ڈومکی
مولانا نے کہا کہ عزاداری ارادۂ الٰہی ہے جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عزاداری سے ٹکرانے والے دراصل ارادۂ الٰہی سے ٹکرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عزائے حسینؑ کی بنیاد اللہ اور اس کے رسولؐ نے رکھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ محرم کا چاند دیکھتے ہی جو نئے سال کی مبارک باد دیتے ہیں وہ دراصل محرم کے تقدس اور عزائے امام حسینؑ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر حسینؑ کے ماتم میں کوئی عظمت نہیں ہے تو یزید کی نسلیں پریشان کیوں ہو جاتی ہیں؟
مولانا نے حسین آباد ٹرسٹ میں ہو رہی بدعنوانیوں اور ناجائز قبضوں سے لوگوں کو آگاہ کیا اور کہا کہ سازش یہ ہے کہ امام بارگاہوں اور مذہبی عمارتوں کو پکنک اسپاٹ بنا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آصفی مسجد سے نماز جمعہ جامع مسجد تحسین گنج منتقل کر دی جائے تو بڑا امام بارگاہ پوری طرح ٹورسٹ اسپاٹ بن جائے گا۔







