بین الاقوامی وہابی دہشتگرد گروہ تحریر الشام میں علویوں پر تناؤ، تکفیری دہشتگرد جولانی دوہرے دباؤ میں
شیعیت نیوز : مقبوضہ شام بین الاقوامی وہابی دہشتگرد گروہ تحریر الشام حکومت کی وزارت داخلہ کے سابق ترجمان "نور الدین البابا” کا علوی فرقے کے بارے میں سابقہ گفتگو۔
نصیری فرقہ، جس کا نام بعد میں ‘علوی فرقہ’ پڑ گیا، ایک ایسا گروہ ہے جو معاشرے اور تاریخ سے مکمل طور پر کٹا ہوا رہا ہے، اور اس کے اور دیگر فرقوں کے درمیان ایک بڑی خلیج موجود ہے ، اسے اہل سنت اور شیعہ اثناء عشریہ، دونوں کے نزدیک ہی اسلام سے خارج تصور کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فرانس کا نوآبادیاتی انداز: ایک طرف تعاون کا لبادہ، دوسری طرف طیارہ بردار بحری بیڑا
تاہم اس فرقے کے دانشوروں نے ان عقائد سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا جن کی وجہ سے اس گروہ کو مخالفت اور جنگ و جدل کا سامنا کرنا پڑا تھا چنانچہ وہ اپنی اس اصل کی طرف لوٹ گئے جس سے یہ فرقہ علیحدہ ہوا تھا، اور وہ اصل شیعہ اثناء عشریہ جعفری مذہب ہے یعنی وہ شیعہ اثناء عشری ہیں۔
گزشتہ روز شام کے شہر طرطوس کی علوی مسجد کے امام نے وہابی خوارج دہشتگرد گروہ تحریر الشام حکومت سے ان کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے بارے پوچھا گیا تاکہ وہ اپنا لائحہ عمل اس کے مطابق بنا سکیں۔ وہابی دہشتگرد جولانی اس وقت مشکل کا شکار ہے کہ اگر علویوں کو کافر قرار دیتے ہوئے ہیں تو وہ یورپ و اسرائیل سے الگ وطن کے لیے حمایت و مدد فراہم کرنے کی اپیل کر سکتے ہیں۔ اور اگر وہابی خارجی دہشتگرد جولانی ان کو مسلمان قرار دیتا ہے تو شام کے وہابی خوارج جولانی سے ناراض ہو جائیں گے کہ یہ اپنے تکفیری نظریہ سے حکومت کی خاطر ہٹ گیا ہے۔







