ایرانی مزاحمت کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں 4 ڈالر اضافہ، امریکہ اور صیہونیوں کی جارحیت کا معاشی خمیازہ

12 مئی, 2026 11:32

شیعیت نیوز : ایرانی مزاحمت کی وجہ سے عالمی تیل مارکیٹ میں زبردست اضافہ، امریکہ اور صیہونیوں کی جارحیت کا معاشی خمیازہ۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے، آبنائے ہرمز میں ایران کی مضبوط نگرانی اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں 4 ڈالر سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ نے البیاضہ میں اسرائیلی ٹینک کو خودکش ڈرون سے نشانہ بنایا، ویڈیو جاری

برینٹ خام تیل کی قیمت گرین وچ وقت کے مطابق پیر کی صبح 3 بج کر 40 منٹ پر 4 ڈالر 16 سینٹ اضافے کے بعد 105 ڈالر 45 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی دوران امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 4 ڈالر 38 سینٹ یا 4.59 فیصد اضافے کے ساتھ 99 ڈالر 80 سینٹ فی بیرل پر ٹریڈ ہوئی۔

فلپ نووا انسٹی ٹیوٹ کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا ساچدیوا نے کہا کہ عالمی تیل مارکیٹ اب بھی جغرافیائی سیاسی عوامل کے شدید اثر میں ہے اور واشنگٹن یا تہران کی جانب سے آنے والے ہر بیان، وارننگ، تصدیق یا تردید پر قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

آئی جی انسٹی ٹیوٹ کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور نے ایک نوٹ میں کہا کہ اس وقت عالمی خام تیل مارکیٹ کی تمام تر توجہ خطے میں ایران کی مضبوط پوزیشن پر مرکوز ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے اتوار کے روز کہا کہ دنیا گزشتہ دو ماہ میں تقریباً ایک ارب بیرل تیل سے محروم ہو چکی ہے اور توانائی مارکیٹ کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا، حتیٰ کہ اگر سپلائی بحال بھی ہو جائے۔

آئی این جی انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کاروں نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ شدید تیل بحران 2026 کے آخر تک کم ہو سکتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں ایران کی مکمل نگرانی اور ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات، ذخائر میں کمی اور کمزور پالیسی ہم آہنگی کے باعث جغرافیائی سیاسی خطرات قیمتوں پر اثر انداز رہیں گے۔

8:11 شام مئی 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔