ایرانی فضائی دفاع نے 170 سے زائد دشمن ڈرون مار گرائے: کمانڈر امیر الہامی

19 اپریل, 2026 16:59

شیعیت نیوز : ایرانی ایئر ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے کمانڈر امیر علیرضا الہامی نے کہا ہے کہ رمضان جنگ کے دوران ہم دشمن کے 170 ڈرون مار گرانے میں کامیاب رہے۔ امیر علیرضا الہامی، جو ملک کے مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر ہیں، نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا: "رمضان جنگ کے دوران فضائی دفاع کے جوانوں نے 170 سے زائد جدید دشمن ڈرونز مار گرائے، جن میں امریکی اور صہیونی طیارے شامل تھے۔”

یہ بھی پڑھیں : ایران ابھی تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور پر رضامند نہیں، ایرانی خبر ایجنسی

انہوں نے کہا کہ یہ عام یا سادہ ڈرون نہیں تھے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، خود حفاظتی نظام، ہتھیاروں اور درست شناختی آلات سے لیس تھے۔ ان میں Hermes 900، MQ-9 اور Heron جیسے جدید ڈرون بھی شامل تھے۔ امیر الہامی نے مزید بتایا کہ جنگ کے آخری دنوں میں، جنگ بندی سے قبل، امریکہ کا ایک انتہائی جدید جاسوسی طیارہ MQ4-TypeC جو خلیج فارس کے اوپر بہت بلندی پر پرواز کر رہا تھا، فضائی دفاع کے جوانوں نے نشانہ بنایا۔ چند دن بعد خود امریکہ کو بھی اس حملے کا اعتراف کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ فضائی دفاع کی کامیابیاں صرف ڈرونز تک محدود نہیں رہیں بلکہ کئی جدید جنگی طیارے بھی مار گرائے گئے، جن میں F-35، F-15، F-16، F-18 اور A-10 شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک کے فضائی دفاع کی طاقت، تیاری اور فعالیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام سے مخاطب ہو کر کہا: فوج واقعی آپ پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار ہے۔ زمینی، فضائی، بحری اور فضائی دفاعی افواج اپنی تمام تر صلاحیتیں ملک کی سرحدوں اور فضائی حدود کی حفاظت کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔

امیر الہامی نے مزید کہا کہ ایرانی فوج نے جس طرح مقدس دفاع کے دوران ملک کا دفاع کیا، اسی طرح بعد میں بھی قدرتی آفات اور حالیہ جنگوں جیسے 12 روزہ جنگ اور رمضان جنگ میں پوری قوت کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑی رہی۔ آخر میں انہوں نے دشمن کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران کا فضائی دفاع تباہ ہو چکا ہے، اور کہا: اس کا جواب صرف ایک سوال ہے، اگر فضائی دفاع تباہ ہو چکا ہے تو پھر 170 ڈرون اور دشمن کے جنگی طیارے کس نے مار گرائے؟

6:15 شام اپریل 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔