ایران کا مؤقف: عارضی جنگ بندی نہیں، خطے میں مستقل حل ناگزیر

18 اپریل, 2026 01:44

شیعیت نیوز : سینئر ایرانی مشیر خارجہ "سعید خطیب زادہ” نے پاکستان کی ثالثانہ کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کوششیں عارضی جنگ بندی کی بجائے ایک مستقل حل پر ختم ہونی چاہئیں۔ کشیدگی کا سلسلہ ایک بار ہمیشہ کے لئے ختم ہونا چاہئے۔ سعید خطیب زادہ نے ان خیالات کا اظہار انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ایک انٹرویو میں کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں لبنان سے بحیرہ احمر تک تمام متنازعہ علاقے و مسائل شامل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنان ہماری ریڈ لائن ہے۔ پاکستان کی ثالثانہ کوششیں بھی اسی جامع ہدف کے حصول کے لئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایرانی حدود میں واقع یہ آبی گزرگاہ، تاریخی طور پر ہمیشہ کھلی رہی ہے۔ لیکن موجودہ سلامتی کی صورت حال اور ماحولیاتی خدشات کے پیش نظر اس گزرگاہ کے انتظامات میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ داخلی و خارجی دباؤ میں، حکمران ٹرمپ کی “فیس سیونگ” کا ذریعہ نہ بنیں، علامہ سید جواد نقوی

سعید خطیب زادہ نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل اس علاقے میں عدم استحکام کے ذمے دار ہیں۔ یہی دو کردار عالمی تجارت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک پائیدار حل کے لئے، واشنگٹن کو اپنے ضرورت سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنا پڑے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لئے ایک مستحکم راستہ بنی رہے۔

قابل غور بات ہے کہ تہران، عارضی جنگ بندی کو قبول کرنے کی بجائے اس بات پر زور دے رہا ہے کہ لبنان سے بحیرہ احمر تک پورے خطے میں مستقل بنیادوں پر تصادم کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ فی الحال، ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی نافذ ہے۔ یہ جنگ بندی آئندہ بدھ تک جاری رہے گی۔ قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں اس مدت میں توسیع کی ممکنہ خبریں دی گئیں تاکہ سفارتی راستے کو جاری رکھا جا سکے۔ دوسری جانب، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کے انعقاد کے لئے مشاورت جاری ہے۔ توقع ہے کہ اگلے ہفتے دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہو گا۔

3:37 صبح اپریل 18, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔