ایران کی سخت دھمکی، اسرائیل لبنان پر حملے روکنے پر مجبور
شیعیت نیوز: ایران کی واضح دھمکی نے اسرائیل کو لبنان میں فوجی جارحیت روکنے پر مجبور کر دیا۔ جمعہ کے روز ایک اعلیٰ سکیورٹی ذریعے نے پریس ٹی وی کو بتایا کہ تہران کی جانب سے شدید دباؤ اور اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات سے دستبردار ہونے کی دھمکی نے صہیونی حکومت کو لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اپنے فوجی حملے روکنے پر مجبور کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، بدھ کے روز صہیونی حکومت کی لبنان کے خلاف وحشیانہ جارحیت کے بعد ایران نے امریکا کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے مذاکرات میں شرکت کے لیے ان حملوں کے خاتمے کو ایک سخت پیشگی شرط قرار دیا۔ “مزاحمتی محاذ کا اتحاد ایران کے لیے ناقابلِ مذاکرات تھا،” انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی وفد کا اسلام آباد کا سفر کئی بار مؤخر کیا گیا، خاص طور پر لبنان کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور اسرائیل کو غزہ کے بعد ایران میں بھی ہزیمت اٹھانا پڑی، حافظ نعیم
ذریعے نے مزید بتایا کہ مسلسل اصرار اور مذاکرات سے نکل جانے کی قابلِ اعتبار دھمکی کے ذریعے ایران نے امریکا کو مجبور کیا کہ وہ صہیونی حکومت کو بیروت پر حملے روکنے پر آمادہ کرے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذاکرات کا تسلسل اس بات سے مشروط ہے کہ صہیونی حکومت بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ پر حملوں سے باز رہے۔
ایران نے واضح انتباہ جاری کیا کہ اگر لبنان پر صہیونی حملے جاری رہے تو مذاکراتی عمل مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔ ذریعے کے مطابق، ایران کے غیر متزلزل مؤقف اور مذاکراتی میز چھوڑنے کی حقیقی دھمکی کے باعث امریکا کو مداخلت کرنا پڑی۔ “امریکیوں کو صہیونی حکومت کو بیروت پر حملے روکنے پر مجبور ہونا پڑا،” انہوں نے پریس ٹی وی کو بتایا۔
تاہم ذریعے نے واضح کیا کہ مذاکرات میں وقفہ مشروط ہے، اور مستقبل کی کسی بھی بات چیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صہیونی حکومت بیروت اور داحیہ پر مزید حملے نہ کرے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر یہ حکومت اس مفاہمت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ بیروت پر بمباری شروع کرتی ہے تو مذاکرات فوراً ختم کر دیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی 40 روزہ مسلسل جارحیت کے بعد، بدھ کے روز امریکا نے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مستقل جنگ بندی کی بنیاد کے طور پر قبول کر لیا۔ اس تجویز کے اہم نکات میں تمام محاذوں پر جارحیت کا خاتمہ شامل ہے، جس میں لبنان کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
تاہم، بدھ کے روز جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی صہیونی حکومت نے لبنان کے مختلف علاقوں، بشمول بیروت، پر شدید حملے کیے، جن میں تقریباً 250 شہری جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ایران نے اس سنگین خلاف ورزی کے جواب میں فوری ردعمل کا عزم ظاہر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ لبنان کا محاذ “محورِ مزاحمت” کا لازمی حصہ ہے، جس کا ذکر 10 نکاتی تجویز میں واضح طور پر کیا گیا ہے۔





