کراچی میں برطانوی سفارتی ملاقاتیں، فرقہ واریت کی سازش بے نقاب
شیعیت نیوز : پاکستانی عوام ہوشیار! برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشن کی کراچی میں آفتاب نذیر نامی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے ملاقات۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ پرانی "Divide and Rule” پالیسی دوبارہ فعال ہو گئی ہے۔ برطانیہ نے اپنے نوآبادیاتی دور کی اس حکمت عملی کو پاکستان میں شیعہ-سنی نفرت پھیلانے کے لیے دوبارہ اپنا لیا ہے۔
آفتاب نذیر جیسے نام نہاد ایکٹوسٹ، جو ایران، آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور مقاومت کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں، اب برطانوی افسران سے "مشترکہ ریجنل مشن” کی بات کر رہے ہیں۔ یہ ملاقاتیں اتفاقی نہیں ۔ یہ منظم سازش کا حصہ ہیں، جہاں تکفیری مولویوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ٹاسک دیا جا رہا ہے کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلائیں۔
یہ بھی پڑھیں : رہبرِ شہید آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف تکفیریوں کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا تیز
حقیقت یہ ہے کہ جب امت فلسطین اور غزہ کی حمایت میں متحد ہو رہی ہے، تو یہ عناصر برطانوی اور امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں سے اپیل: ایسے لوگوں کا راستہ روکو جو شیعہ-سنی کے درمیان آگ بھڑکا رہے ہیں۔ ہمارا اصل دشمن امریکہ اور اسرائیل ہے — ان کی پالیسی ہے تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ اتحاد امت ہی طاقت ہے، نفرت پھیلانے والے غدار ہیں!







