وزارت عظمیٰ کی نامزدگی واپس نہیں لوں گا، کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکوں گا، نوری المالکی کا سخت موقف
شیعیت نیوز : عراق میں سیاسی اتحاد "دولت قانون” کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نوری المالکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے لیے اپنی نامزدگی ہرگز واپس نہیں لیں گے۔ وہ اپنے فیصلے میں مکمل طور پر ثابت قدم ہیں اور کسی بیرونی یا اندرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے ملک، اس کی حاکمیت اور قومی ارادے کا احترام ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عراقی عوام کو بتائے کہ کس امیدوار کو ووٹ دیا جائے یا نہ دیا جائے۔ المالکی کا یہ اشارہ واضح طور پر بیرونی مداخلت کی خبروں کی جانب تھا۔
سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ عراق میں غیر ملکی سفارت خانوں یا سرکاری مفادات پر کسی بھی حملے کو روکا جائے گا اور ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : شہید مہدوی جہاز واپس آیا: جنوبی نصف کرے اور بحر اوقیانوس میں ایران کی پہلی تاریخی بحری گشت مکمل
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نوری المالکی نے کہا کہ بغداد اور تہران کے تعلقات باہمی مفادات پر مبنی ہیں اور یہ روابط کسی تیسرے فریق کے دباؤ کے تابع نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب سعودی نشریاتی ادارے الشرق نے ایک سیاسی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ رابطہ فریم ورک کے اندر چار فریقی اتفاق کے تحت المالکی کی نامزدگی واپس لینے پر بات ہوئی ہے، تاہم المالکی کے تازہ بیان نے ان تمام قیاس آرائیوں اور افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی المالکی کی ممکنہ واپسی کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکہ عراق کی مالی امداد روک سکتا ہے۔







