شہید مہدوی جہاز واپس آیا: جنوبی نصف کرے اور بحر اوقیانوس میں ایران کی پہلی تاریخی بحری گشت مکمل
شیعیت نیوز : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے زیر انتظام کثیر المقاصد جہاز "شہید مہدوی” ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جہاز جنوبی افریقہ کے ساحل کے قریب برکس ممالک کی مشترکہ بحری مشقوں میں حصہ لے کر واپس آیا، جسے ایران کی علاقائی حدود سے باہر بحری سرگرمیوں کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علیرضا تنگسیری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق مضبوط عزم کے ساتھ عالمی سمندروں میں پیش قدمی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
شہید مہدوی بحری جہاز تقریباً 10 ہزار 700 بحری میل (تقریباً 18 ہزار کلومیٹر) کا طویل سفر طے کر کے واپس لوٹا۔ یہ جہاز ایران کے 103ویں بحری بیڑے کا حصہ تھا، جس میں فوج کا ڈسٹرائر "شہید نقدی” اور اگلے مورچے کا بحری اڈہ جہاز "مکران” بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں : رہبر انقلاب کو خطرہ لاحق ہوا تو عراقی شیعہ مرجعیت امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان کرے گی، آیت اللہ سیستانی کے نمائندے کا انتہائی سخت پیغام
یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کی جنوبی نصف کرے میں پہلی باضابطہ موجودگی تھی اور ساتھ ہی بحر اوقیانوس میں اس کی پہلی عملی گشت بھی۔ مئی 2024 میں یہ جہاز خط استوا عبور کر کے جنوبی نصف کرے میں داخل ہوا تھا۔
2100 ٹن وزن، 240 میٹر لمبائی اور 27 میٹر چوڑائی والا یہ جدید کثیر المقاصد جہاز مارچ 2023 میں بحری بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ اسے تین جہتی مرحلہ وار ریڈار نظام، سمندر سے سمندر اور سمندر سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جدید مواصلاتی نظام اور الیکٹرانک جنگی سازوسامان سے آراستہ کیا گیا ہے۔
یہ جہاز بڑی تعداد میں نگرانی اور حملہ آور ڈرونز، مختلف اقسام کے حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور تیز رفتار کشتیاں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا کروز میزائل لانچ نظام تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک ہدف کو درست نشانہ بنانے کی استعداد رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے "تیرتا ہوا بحری اڈہ” بھی کہا جاتا ہے۔







