صوبائی صدر مسلم لیگ ن و سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمن کی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگرد سرغنہ معاویہ اعظم سے ملاقات، سنجیدہ حلقوں میں تشویش

22 فروری, 2026 18:50

شیعیت نیوز : مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، حفیظ الرحمٰن کی کالعدم سپاہ صحابہ سے وابستہ دہشت گرد اعظم طارق کے بیٹے اور دہشت گرد سرغنہ معاویہ اعظم سے حالیہ ملاقات نے سنجیدہ حلقوں میں شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔ یہ امر نہایت افسوس ناک اور لمحۂ فکریہ ہے کہ قومی سیاست کے دعوے دار عناصر ایسے افراد اور نظریات کے ساتھ روابط استوار کرتے دکھائی دیں جو ماضی میں فرقہ وارانہ شدت پسندی اور نفرت انگیز بیانیے سے منسلک رہے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ تکفیری سوچ اور شیعہ مخالف نعروں نے اس ملک کے امن، وحدت اور سماجی ہم آہنگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اعظم طارق کا نام ایک ایسے بیانیے سے وابستہ رہا جس نے اہل تشیع کے خلاف اشتعال انگیزی کو ہوا دی، اور معاویہ اعظم بھی متعدد مواقع پر متنازع اور فرقہ وارانہ تقاریر کے حوالے سے زیر بحث رہے ہیں۔ ایسے پس منظر میں کسی بھی مرکزی یا صوبائی سیاسی جماعت کی جانب سے اس نوعیت کی ملاقاتیں سوالات کو جنم دیتی ہیں اور یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کالعدم یا شدت پسند عناصر کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا۔

اہل تشیع کے لیے یہ موقع سنجیدہ غور و فکر کا ہے۔ تاریخ کے تلخ تجربات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اپنے وجود، تشخص اور تحفظ کے خلاف کھڑے بیانیوں کے ساتھ کسی قسم کی سیاسی مفاہمت نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ اجتماعی نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا اہل تشیع کو چاہیے کہ وہ سیاسی حمایت کے معاملے میں بصیرت، وحدت اور اصولی موقف کو مقدم رکھیں، اور ایسے امیدواروں یا جماعتوں کی تائید سے گریز کریں جو کسی بھی درجے میں تکفیری یا شیعہ مخالف نظریات سے وابستگی رکھتے ہوں۔

سیاسی عمل میں شرکت ہر شہری کا حق ہے، مگر یہ حق ذمہ داری کے تقاضوں سے مشروط ہے۔ جو عناصر نفرت، تکفیر اور تشدد کی تاریخ سے جڑے رہے ہوں، انہیں معاشرتی سطح پر مسترد کرنا ہی قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حق میں بہتر راستہ ہے۔

4:19 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top