مولانا بشارت امامی کے حواریوں کا شہداء سانحہ مسجد خدیجتہ الکبریٰ کے اھل خانہ پہ تشدد

13 فروری, 2026 18:41

شیعیت نیوز: تحریک نفاذ فقہ جعفریہ حامد موسوی گروپ سے تعلق رکھنے والے خطیب وپیش نماز جامع مسجد خدیجتہ الکبریٰ ترلائی کلاں اسلام آباد مولوی بشارت امامی کے حواریوں نے آج اپنے ذلالت کی حد پار کردی۔

گذشتہ ہفتے کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے تکفیری وہابی دہشت گردکے خودکش حملے کانشانہ بننے والی مسجد خدیجتہ الکبریٰ میں آج دوران خطبہ جمعہ ایک شہید سید وجیہہ الحسن کے بڑے بھائی نے مولوی بشارت امامی سے سوال کیا تو پہلے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے بدمعاشوں نے انہیں روکا اور پھر مسجد سے باہر لے جاکر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق بشارت امامی نے خطبے میں کہا کہ ہم نے تب تک جنازےدفن نہیں ہونے دیئے جب تک ہم نے اپنے مطالبات حکومت سے منوائے، وہ سارے مطالبات جو ہم چاہتے تھےحکومت نے مانےتب ہم نے جنازے اٹھائے اور دفن کیئے، اسی اثناء میں نمازیوں کی صف میں موجود ایک شہید کے وارث نے دوران خطبہ سوال اٹھایا کہ کفن دفن سے لیکر آج تک جتنے بھی معاملات ہوئے شہداء کے لواحقین سے کسی نے پوچھا تک نہیں جو بھی معاملات طے ہوئے آپ لوگوں نے اپنی طرف سے کیئے ہیں، حکومت کے ساتھ آپ لوگوں نے معاملات طے کیئے ہیں، یہی پہلا سوال مکمل نہیں ہوا تھا کہ کچھ لوگوں نے واویلا شروع کردیا اور سوال کرنے والے پر برہم ہوگئےاور 4،5 افراد نے اسے پکڑ کر ذبردستی مسجد سے باہر نکالا اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ باہر لے جاکر اسے بری طرح مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس شہید کے سوالی وارث کو ذدوکوب کرنے والے تمام افرادکا تعلق تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے ہی تھا۔ بلاآخر پولیس اہلکاروں نےبیچ میں آکر اس شہید کے وارث کی جان بچائی۔

اب یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ 70 سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دینے والوں کے ورثاء یہ حق بھی نہیں رکھتے کہ وہ اپنے پیاروں کی لاشوں پرسیاست کرنے والوں اور ان کے خون کا سودا کرنے والوں سے سوال بھی کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں : لکھنؤ: سانحہ ترلائی اسلام آباد میں شیعہ نسل کشی کے خلاف شدید احتجاج، دہشت گردی کی مذمت

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خانوادہ شہداء کی شکایات اور اعتراضات بلکہ درست ہیں، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ مولوی حسین مقدسی اور مولوی بشارت امامی اسقدر شکریہ شکریہ کرتے رہے پولیس اور حکومتی وزراء کا کہ دیکھنے والوں کو حیرت ہوئی کہ کیا باوقار اور آبرومندانہ رویہ اسے کہتے ہیں۔ ایک فرد بھی وہاں پولیس کا نہیں تھا کہ خودکش حملہ آور کو روکتا۔ اسے گولی مارتا۔ اس خودکش حملے کے جہاں مجرم تکفیری ہیں وہیں حکومت کی مجرمانہ غفلت کے سبب ہمارے لوگ شہید و زخمی ہوئے۔ حکومت نے گل پلازہ میں شہید ہوئے لوگوں کو ایک کروڑ اور ہمارے شہداء کو پچاس لاکھ کیا ان کے خون کے رنگ الگ الگ ہیں دو مختلف جگہ پر لوگوں کے ساتھ الگ الگ برتاؤ کیوں کیا ہم تیسرے درجے کے شہری ہیں؟ حکومت شہداء کے ساتھ اسطرح تعاون کرے کہ جس سے ان کی تسلی و تشفی ہو۔ شہداء کے بچوں کو تاحیات تعلیم کی سہولت دی جائے۔ ان کی فیملی کو علاج معالجے اور ادوایات تاحیات مفت دی جائیں۔ زخمیوں کا علاج معالجہ اور ادوایات تا حیات مفت دی جائیں۔ اور گل پلازہ میں ہونے والے زخمیوں کی طرح ان کو پھی پچاس ہزار کم از کم دیا جائے۔ حکومتی اقدامات ناکافی ہیں اور یہ خود کش دھماکہ حکومتی و انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے۔

درباری مولوی بشارت امامی اور اس کے حواریوں کی جانب سے ایک مومنین بالخصوص ایک شہید کے وارث کے ساتھ ایسا نارواسلوک اور تشدد کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں ہے، یہ کھلی بدمعاشی اور غنڈہ گردی ہے ، یہی وہ ٹولہ ہے جس نے بم دھماکے کے فوری بعد وفاقی وزیر داخلہ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہم بغیر کسی احتجاج کے خاموشی سے جنازے دفن کردیں گے، اور انہوں نے ایسا ہی کیا، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، مومنین کو بھی چاہیئے کہ وہ پنڈی اسلام آباد میں موجودایسے تمام مساجد و امام بارگاہوں میں جانے سے اجتناب کریں جن کا کنڑول حکومتی ٹاوٹ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پاس ہے ۔

1:59 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top