تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ضیاءالحق سے شہباز شریف تک ، غلامی کا کا میاب سفر
شیعیت نیوز: تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نامی ایک تنظیم کا وجود سن 80 کی دہائی میں اس وقت عمل میں آیا جب ملک پر جنرل ضیاءالحق جیسا ملعون ڈکٹیٹر مسلط تھا، پاکستان میں انقلابی شیعہ عوام کی مقبول جماعت تحریک جعفریہ پاکستان جس کے بانی قائد مفتی جعفرحسینؒ کی رحلت کے بعد پاراچنار سے تعلق رکھنے والے مجاہد عالم دین علامہ سید عارف حسین الحسینی ؒ کو قیادت منتخب کیا گیا تو ان کی امام خمینی ؒ سے قربت کے سبب ضیاءالحق کی مارشل لائی حکومت نے انہیں کمزور کرنے کے لئے حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی پشت پناہی شروع کی ، کیوں کے اسی تحریک جعفریہ پاکستان نے ماضی میں مفتی جعفرحسین ؒ کی قیادت میں ذکات و عشر آرڈیننس کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے کامیاب دھرنا دیکر ضیاءالحق کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیاتھا ، ضیاءالحق کو اس کا بدلہ بھی لینا تھا، آہستہ آہستہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ میں سابق شیعہ فوجی افسران کو اہم عہدے تفویض کیئے جانے لگے، اسلام آباد اور راولپنڈی کی تقریباً تمام بڑی اور مرکزی مساجد وامام بارگاہوں کا کنڑول بھی حامد موسوی گروپ کے سپرد ہونے لگا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔
اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں قائم مسجد وامام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جہاں گذشتہ جمعے تکفیری وہابی دہشت گردوں نے خودکش حملہ کرکے 70 سے زائد بےگناہ نمازیوں کو شہید اور ڈیڑھ سو سے زائد نمازیوں کو زخمی کیا یہ مسجد بھی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے زیر انتظام ہے اور اس مسجد میں امامت کے فرائض بھی ٹی این ایف جے کے مرکزی رہنما مولانا بشارت امامی کے سپردہیں۔ جنہوں نے اپنے موجودہ قائد مولانا سید حسین مقدسی کی پیروی کرتے ہوئے ، ان شہداء کے مقدس جسد ہائے خاکی کو جلد از جلد اسلام آباد سے ان کے آبائی شہروں کیجانب روانہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا، انہوں نے پوری کوشش کی کہ ان شہداء کے جنازوں کو لیکر ورثاء کوئی احتجاج اس ظالم حکومت کے خلاف ریکارڈ نہ کرواسکے۔ جبکہ حکومتی اور ریاستی کاسہ لیسی میں انہوںنے اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھا۔







