شہید عون عباس نے اعتزاز حسن اور عباس علی جیسی بہادری دکھائی: بمبار کو دبوچ کر سینکڑوں نمازیوں کی جانیں بچائیں
شیعیت نیوز : پاکستانی قوم میں ایسے بہادر سپوت بھی پیدا ہوتے ہیں جو اپنی جان قربان کر کے سینکڑوں معصوم جانیں بچا لیتے ہیں۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔ اسی جذبے کے تحت تین عظیم نوجوانوں نے اپنی جانیں نذرانہ پیش کر کے تاریخ رقم کی۔
پہلے شہید اعتزاز حسن ہیں، جو خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تعلق رکھتے تھے۔ 6 جنوری 2014 کو ایک خودکش بمبار نے اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں 2000 سے زائد بچے زیر تعلیم تھے۔ اعتزاز حسن نے اپنی جان قربان کر کے بمبار کو روک لیا اور سینکڑوں معصوم بچوں کی جانیں بچا لیں۔ شہید کی ماں نے تاریخی الفاظ ادا کیے: "میرا بیٹا مجھے رلا گیا، مگر بہت سے ماؤں کو رونے سے بچا گیا۔”
دوسرے شہید عباس علی ہیں جو پاراچنار سے تعلق رکھتے تھے۔ 13 فروری 2015 کو امامیہ مسجد حیات آباد پشاور میں دہشت گردوں نے ایک گھنٹے تک فائرنگ کی۔ عباس علی نے اپنی جان پر کھیل کر ایک خودکش بمبار کو دبوچ لیا اور بے شمار نمازیوں کی جانیں بچائیں۔ اس بہادری پر انہیں تمغہ شجاعت سے نوازا گیا۔
تیسرے شہید عون عباس ہیں جنہوں نے 6 فروری 2026 کو ترلائی مسجد خدیجۃ الکبریٰ اسلام آباد میں نماز جمعہ کے دوران بمبار کو دبوچ لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے ہال میں دو ہزار سے زائد نمازی موجود تھے۔ اگر بمبار ہال میں داخل ہو جاتا تو شہادتیں کئی گنا زیادہ ہو سکتی تھیں۔ عون عباس نے بمبار کو نمازیوں سے دور لے جا کر خود دھماکے میں جام شہادت نوش کیا۔ شہید کی دو ماہ بعد شادی طے تھی، وہ دولہا نہ بن سکا مگر کئی خواتین کے سہاگ بچا گیا۔
یہ تینوں نوجوان مکتب اہلبیتؑ سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی جان دے کر ثابت کیا کہ ایمان اور حق کی راہ میں قربانی سب سے بڑی عبادت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ انہیں قومی ہیرو قرار دے کر سول اعزاز سے نوازے۔
رپورٹ: سید عدیل عباس







