کوئی پاکستانی تسلیم نہیں کرے گا کہ ہماری فوج کے ہاتھوں نہتے مظلوم فلسطینی عوام کا خون بہے، علامہ ناظر عباس تقوی

24 جنوری, 2026 18:08

شیعیت نیوز: شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس کے معاہدے میں شامل ہوکر 25 کروڑ عوام کو مایوس کیا، عوام اسے مسترد کرتی ہے، یہ معاہدہ قائداعظم محمد علی جناح کے وژن سے متصادم ہے، اسرائیل کے حوالے سے بابائے قوم کا دوٹوک مؤقف رہا ہے کہ اسرائیل فلسطین کے قلب میں خنجر اور ایک غاصب ریاست ہے لہذا پاکستان اسے کسی صورت تسلیم نہیں کرے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فام پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں ایس یو سی کے مرکزی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے اس اقدام سے قبل نہ ہی اسمبلی اور نہ ہی سینیٹ کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا اور ایسا کام کیا ہے کہ جس سے پاکستان مزید مشکلات میں مبتلا ہوگا، اہم بات یہ کہ جس فلسطین میں امن کے نام پر یہ نام نہاد بورڈ بنایا گیا ہے اس کی تو نمائندگی ہی نہیں ہے، یعنی دنیا سے امریکا کرائے کے لوگوں کو جمع کرنے کے بعد امریکا فلسطین کی سرزمین پر امن قائم کرنا چاہتا ہے اور ایسا امن جو فلسطینی عوام کی مرضی کیخلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ولی فقیہ ریڈ لائن ہے ان پر حملہ اعلان جنگ اور حملہ آور شخص یا ریاست کا خون حلال ہے، آیت اللہ مکارم شیرازی

علامہ سید ناظر عباس تقوی نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کہتا ہے کہ حزب اللہ اور حماس کو غیر مسلح کریں گے، حزب اللہ اور حماس وہ لوگ ہیں جو اسرائیل کے مقابلے میں فلسطین کے محافظ ہیں، پاکستان اگر ٹرمپ کے اشارے پر حماس کو غیر مسلح کرے گا تو یقیناً اس سے تصادم ہوگا، ہماری افواج کا ان مجاہدین سے تصادم ہوگا جو کئی دہائیوں سے فلسطین کی سرزمین کا دفاع کررہے ہیں، اگر خدانخواستہ اس تصادم کے نتیجے میں پاکستانی افواج کے افراد بھی مارے جائیں تو ہمیں بتایا جائے کہ ہم انہیں کیا میڈل دیں، اگر دشمن کے مقابلے پر آپ جنگ میں شہید ہوں تو آپ اسے نشان حیدر دیتے ہیں لیکن حماس کے ہاتھوں مرنے والے کو ہم کیا کہیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی شیعہ سنی پاکستانی وزیراعظم کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرے گا کہ ہمارے فوجی فلسطین میں جاکر امن کے نام پر ایسا کام کریں کہ جس سے فلسطینی مظلوم عوام کا خون بہے۔

4:22 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top