مغربی کنارے میں 48 گھنٹوں کے دوران 27 مزاحمتی کارروائیاں، اسرائیلی فورسز سے شدید جھڑپیں
شیعیت نیوز : مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں مجموعی طور پر 27 مزاحمتی کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں جو مختلف نوعیت کی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 مختلف مقامات پر اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جبکہ آبادکاروں کے حملوں کے خلاف 8 مزاحمتی کارروائیاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ آبادکاروں کی تین گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ مزاحمت کے دوران پتھراؤ، آتش گیر بوتلوں اور آتش بازی کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں دو آبادکار زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی ہنگاموں پر مغربی میڈیا کے جھوٹ بے نقاب، دی گرے زون اور تسنیم کی چشم کشا رپورٹس
القدس میں قلندیا کیمپ کے اندر فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جہاں مقامی باشندوں نے قابض فورسز پر پتھر اور آتش بازی پھینکی۔
رام اللہ گورنری میں ترمسعیا اور المغیر بلدات میں مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جہاں فلسطینیوں نے آبادکاروں کے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پتھراؤ کیا۔ اسی طرح عوفرا بستی کے اطراف میں رہنے والے فلسطینیوں نے آبادکاروں کے حملوں کو پسپا کیا اور ان کی متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
نابلس گورنری میں قصرہ، یتما، برقہ اور جالود دیہات میں بھی آبادکاروں کے حملوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی گئی۔ ان علاقوں میں جھڑپوں کے دوران پتھراؤ اور آتش بازی کی گئی جس کے نتیجے میں آبادکاروں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
سلفیت میں کفر الدیک بلدہ میں آبادکار ملیشیاؤں کے حملے کے خلاف فلسطینیوں نے مزاحمت کی جس کے نتیجے میں دو آبادکار زخمی ہوئے۔ اسی طرح حارس بلدہ میں بھی فلسطینیوں اور آبادکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پتھراؤ کیا گیا۔
بیت لحم گورنری میں حوسان بلدہ میں جھڑپیں رپورٹ ہوئیں جبکہ جنین شہر میں فلسطینیوں نے حومش بستی کے قریب آبادکاروں کے حملوں کا مقابلہ کیا اور ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ شہر کے مختلف محلوں میں بھی جھڑپیں اور پتھراؤ ہوا۔
اریحا میں العوجا کے علاقے میں آبادکاروں کے حملوں کے خلاف فلسطینیوں نے مزاحمت کی اور ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ الخلیل میں بیت امر بلدہ میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کے خلاف جھڑپیں ہوئیں اور پتھراؤ کیا گیا۔
یہ تمام کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسرائیل کی سفاک پالیسیوں اور آبادکاری کے جرائم کے باوجود فلسطینی عوام اپنی زمین اور بنیادی حقوق کے دفاع سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔







