ایرانی ہنگاموں پر مغربی میڈیا کے جھوٹ بے نقاب، دی گرے زون اور تسنیم کی چشم کشا رپورٹس

23 جنوری, 2026 16:19

ترتیب و تنظیم: ایل اے انجم

شیعیت نیوز: ایران میں ہونے والے حالیہ ہنگاموں کے بادل تقریباً چھٹ چکے ہیں، تاہم اس دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مغربی میڈیا کے متواتر پھیلائے گئے جھوٹ اور گمراہ کن بیانیے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ ایرانی ہنگاموں کے حوالے سے مغربی میڈیا کی جانبدارانہ رپورٹنگ کا پوسٹ مارٹم امریکہ میں قائم معروف تحقیقاتی ویب سائٹ دی گرے زون نے چند روز قبل کر دیا تھا، جس میں تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز کا ایرانی فسادات کو بھڑکانے میں کتنا کردار ہے۔

ایران کی حالیہ صورتحال پر مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کے کردار پر روسی نشریاتی ادارے رشیا ٹوڈے میں شائع ہونے والے مضمون میں ایک دلچسپ تبصرہ قابلِ غور ہے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں:

یہ بھی پڑھیں : انگلی ٹریگر پر ہے، کسی بھی غلطی کا انجام دردناک ہوگا: جنرل محمد پاکپور

“حالیہ ایرانی احتجاجی لہروں کے دوران مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کی زبان ایک جانی پہچانی اسکرپٹ پر مبنی ہے۔ آزادی، جمہوریت اور مظاہرین کی حمایت وہ الفاظ ہیں جنہیں یورپ اور امریکہ اپنی ترجیحات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ واشنگٹن اور لندن خود کو اخلاقی علمبردار بنا کر پیش کرتے ہیں، جو ایک جابر ریاست کے خلاف مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ یہ زبان شاذ و نادر ہی انسانی حقوق کے لیے حقیقی فکر میں تبدیل ہوئی ہے۔ اس کے بجائے، اس زبان نے ہمیشہ ایک کہیں زیادہ ٹھوس اور دیرینہ مقصد کو چھپانے کا کام کیا ہے: ایران کے وسائل، بالخصوص اس کے تیل پر قبضہ، اور اس کی سیاسی سمت پر اثر و رسوخ حاصل کرنا۔”

“یہ خیال کہ امریکہ یا یورپ عام لوگوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے ایرانی احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، اس وقت دم توڑ دیتا ہے جب کوئی ان کا تاریخی ریکارڈ دیکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جدید امریکی مداخلت کے آغاز سے ہی ایران کے ساتھ ایک ایسے معاشرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک تزویراتی اثاثے (Strategic Asset) کے طور پر سلوک کیا گیا ہے۔ اس کا جغرافیہ، توانائی کے ذخائر اور حریف طاقتوں کے درمیان اس کا محلِ وقوع اسے ایک پرکشش ہدف بناتا رہا ہے۔ جب تک ایرانی سیاست مغربی معاشی مفادات کے مطابق رہی، حکومت کو برداشت کیا گیا، اور جب ایسا نہ ہوا تو حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کو ناگزیر قرار دے دیا گیا۔”

دریں اثنا، تسنیم نے ایک رپورٹ میں ایرانی ہنگاموں کے بارے میں مغربی میڈیا کے 10 بڑے جھوٹ بے نقاب کیے ہیں۔ جون 2025ء میں امریکہ اور صہیونی ریاست کی جانب سے براہِ راست حملوں کے بعد جنوری کا مہینہ ایران کے لیے سب سے زیادہ ہنگامہ خیز رہا۔ کاروباری طبقے کی جانب سے معاشی اصلاحات کے مطالبے کے لیے شروع ہونے والے پرامن احتجاج، جن کی بنیادی وجہ برسوں سے جاری مفلوج کن مغربی پابندیاں تھیں، دیکھتے ہی دیکھتے منظم دہشت گردی میں بدل گئے۔ ایرانی شہروں کی حقیقی صورتحال اور عوام کے اصل جذبات مغربی میڈیا کے اس بیانیے سے یکسر مختلف ہیں جو زبردستی پھیلایا جا رہا ہے۔

وہ پابندیوں کے خاتمے کا ذکر تک نہیں کرتے جنہوں نے ایرانی عوام کا ذریعۂ معاش تباہ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے یہ اچانک اور کھوکھلی ہمدردی اس وقت مزید عیاں ہو جاتی ہے جب اسے غزہ میں جاری نسل کشی میں مغرب کی عملی شمولیت کے ساتھ پرکھا جائے، جہاں گزشتہ دو برسوں میں کم از کم 71 ہزار فلسطینی شہید کیے گئے۔ اس کے برعکس، مغرب نے ان مظالم کی نہ صرف وکالت کی بلکہ بھرپور مدد بھی فراہم کی۔

اسی تناظر میں، تسنیم کی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے وہ دس بڑے جھوٹ تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں جو حالیہ ایرانی ہنگاموں کے حوالے سے مسلسل دہرائے جا رہے ہیں، جن میں پرامن احتجاج کے نام پر دہشت گردی کو چھپانا، اسرائیل اور امریکہ کے کردار سے انکار، انٹرنیٹ کی مبالغہ آمیز بندش، ہزاروں اموات کے بے بنیاد دعوے، کیمیائی ہتھیاروں کے من گھڑت الزامات، اور ایرانی قیادت کے فرار سے متعلق جھوٹی خبریں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تمام دعوے ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہیں جن کا مقصد ایران کو کمزور اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔

11:26 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top