فرقہ واریت دشمن کی سازش، اتحادِ امت ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے، ملی یکجہتی کونسل پاکستان

07 جنوری, 2026 14:15

شیعیت نیوز : ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مصالحتی کمیشن کا اہم اجلاس کمیشن کے چیئرمین علامہ رمضان توقیر کی زیرِ صدارت کونسل کے مرکزی دفتر جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیشن کے کوآرڈینیٹر علامہ عارف حسین واحدی، مفتی گلزار احمد نعیمی، ڈاکٹر سید علی عباس نقوی، مولانا عرفان حسین، سید صفدر رضا، مولانا سید وزیر حسین کاظمی، مولانا فرحت حسین، تصور عباس، ناصر عباس، سعادت علی، اسرار احمد نعیمی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت، بھائی چارہ اور وحدت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ۔ ہم نے صرف زمین ہی آزاد نہیں کروائی تھی بلکہ ایک نظریاتی ریاست قائم کی تھی۔ آج بھی دشمن اس تاک میں ہے کہ پاکستان کیوں وجود میں آیا، اسی مقصد کے تحت فرقہ واریت اور انتشار کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران میں موساد کے لیے جاسوسی کرنے والے مجرم کو پھانسی دے دی گئی

مقررین نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے قیام کے وقت علامہ شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، علامہ سید ساجد علی نقوی، مولانا سمیع الحق، پروفیسر ساجد میر اور مولانا فضل الرحمان جیسے عظیم قائدین نے انتہائی مشکل حالات میں اتحادِ امت کا علم بلند رکھا، جب اتحاد کی بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔ ان قائدین کی دانشمندانہ قیادت کے باعث ملک میں فرقہ واریت پر بڑی حد تک قابو پایا گیا۔

مقررین نے کہا کہ 1995 سے لے کر اب تک ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے علماء، بزرگان اور تمام مسالک کے افراد متحد ہیں اور متحد رہیں گے۔ موجودہ ملکی صورتحال میں فرقہ واریت، شدت پسندی، تکفیر اور انتشار کو پھیلایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے دو چیزیں انتہائی اہم ہیں:
اوّل، منبر و محراب سے قرآن کے حکم کے مطابق اتحاد و وحدت کی بھرپور آواز بلند کی جائے۔
دوم، سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے نفرت انگیز مواد پر سائبر کرائم ادارے اور حکمران سنجیدگی سے توجہ دیں۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دشمن کبھی خاموش نہیں بیٹھتا اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے، اسی لیے آج بھی تکفیر اور مسلکی نفرت کی آگ بھڑکانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ تمام مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے کیونکہ اتحاد ہی مسلمانوں اور پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے۔

شرکاء نے کہا کہ مصالحتی کمیشن کو بھرپور طریقے سے فعال کیا جائے گا۔ جہاں بھی فرقہ واریت کا ناسور ہوگا، کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا۔ ہمیں اپنے مسلکی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحادِ امت کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہوگا اور دشمن کی تمام سازشوں کا مقابلہ یکجہتی کے ساتھ کرنا ہوگا۔

اجلاس میں عالمِ اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطین میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اپنی عوام کے جذبات کا احترام کریں اور مظلوم فلسطینی عوام کی آواز بنیں۔ پاکستان کے بانی **قائد اعظم محمد علی جناح**ؒ نے اسرائیل کی ہمیشہ مخالفت کی اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ شرکاء نے کہا کہ ہر سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔ آخر میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ حکومتِ پاکستان کبھی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو عوامی خواہشات اور قومی مفاد کے خلاف ہو۔

1:19 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top