امریکہ نے کوئی غلطی کی تو امریکی فوجیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی، علی لاریجانی
شیعیت نیوز : ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی نے بیان دیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ موقف نے موجودہ حالات کے پسِ پردہ چھپے ہوئے پہلوؤں کو واضح کر دیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران احتجاج کرنے والے کاروباری مالکان اور بدامنی کا فائدہ اٹھانے والے تخریبی عناصر کے درمیان واضح فرق کرتا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی مداخلت صورتحال کو بنیادی طور پر بدل دے گی۔ ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے متنبہ کیا کہ ٹرمپ کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیے کہ ایران کے اندرونی مسائل میں امریکی مداخلت کے نتیجے میں علاقائی عدم استحکام پیدا ہوگا اور امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔
ایک براہِ راست پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ٹرمپ ہی ہیں جنہوں نے اس مہم جوئی کا آغاز کیا ہے، اور انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : میزائل طاقت پر مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایرانی وزیر دفاع کا دوٹوک اعلان
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران کے خلاف ایک نئی دھمکی جاری کی، جس میں دعویٰ کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو واشنگٹن تیار اور لیس ہے اور مداخلت کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ اگر ایران پرامن مظاہرین کو گولی مارتا ہے، جو ان کا معمول ہے، تو امریکہ ان کی نجات کے لیے آئے گا۔ ہم تیار ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے دوران ایران کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے متعدد افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے جن پر بیرونِ ملک مقیم ملک دشمن گروہوں سے رابطے رکھنے اور عوامی احتجاج کی آڑ میں فسادات بھڑکانے کا الزام ہے۔
تہران نے بارہا قانونی شہری اظہارِ رائے اور منظم پرتشدد کارروائیوں کے درمیان فرق پر زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی عناصر ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سماجی شکایات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
ٹرمپ کے یہ ریمارکس انتہائی مضحکہ خیز ہیں، خاص طور پر جب خود امریکہ کا مظاہرین کو طاقت کے ذریعے کچلنے کا ریکارڈ سامنے ہو۔ جیسے ہی ایران میں کوئی جائز مطالبات کو لے کر احتجاج اور مظاہرے شروع ہوتے ہیں تو فوراً عالمی گدھ صفت طاقتیں اپنے زرخرید کارندوں کے ذریعے ان مظاہروں کو تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی طرف دھکیلتی ہیں اور اوپر سے عالمی میڈیا پر ایران میں پرامن مظاہرین پر حکومتی تشدد کا رونا روتے ہیں۔ اس دفعہ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے لیکن ان تمام حالات کے باوجود ایران میں معاملات زندگی معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور ہمیشہ کی طرح امنیت برقرار ہے۔







