سعودی عرب سے 8 ماہ بعد رہائی پانیوالے علامہ غلام حسنین وجدانی نے قید سے متعلق حقائق بتادیئے

31 دسمبر, 2025 16:18

شیعیت نیوز: امام جمعہ کوئٹہ علامہ غلام حسنین وجدانی نے کہا ہے کہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد واپس آتے ہوئے انہیں سعودی عرب سے گرفتار کر لیا گیا اور 18 دسمبر کو وہ وطن واپس پہنچ گئے۔

سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اپنی خیریت سے آگاہ کرتے ہوئے علامہ وجدانی نے کہا کہ انہیں سعودی عرب میں جدہ جیل میں رکھا گیا۔

ساڑھے سات مہنے بعد وہاں سے رہا ہوئے اور 15 دن جدہ میں ہی ایک دوسری جیل میں رکھا گیا، جہاں سے ڈپورٹ کیا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ باعزت بری ہوکر بخیر و عافیت پاکستان آ گئے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکام کے سوالات سے مجھے اندازہ ہوا کہ کوئٹہ سے ہی میرے مخالفین نے سعودی حکام کو غلط رپورٹ دی تھیں، جس کے نتیجے میں وہاں پر مجھے شک و شبہ کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم کوئی بھی جرم ثابت نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کا سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات منظور کرنے کا مطالبہ

امام جمعہ کوئٹہ نے کہا کہ تحقیقات کے دوران ہی انہیں بتا دیا گیا تھا کہ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شک و شبہ رفع ہو گیا ہے اور آپ اپنے وطن واپس جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان پر سعودی حکام نے کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا، حتیٰ کہ کسی نے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی۔ جیل کے اندر قیدیوں کے ساتھ حقوق کی بھی رعایت کی جاتی تھیں اور بنیادی ضروریات فراہم تھیں۔

علامہ وجدانی نے پورے ملک، بالخصوص کراچی، گلگت اور نگر کے مومنین اور علماء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میری حمایت کی۔ جہاں جہاں وہ آواز اٹھا سکتے تھے، انہوں نے آواز اٹھائی۔ ان کی کوششیں اور دعائیں قبول ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے مومنین کے بھی مشکور ہیں۔

اسی طرح انہوں نے علمائے کرام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے علامہ شبیر حسن میثمی، مولانا ناظر عباس تقوی اور مولانا شہنشاہ نقوی، گلگت، نگر میں شیخ مرزا علی نگری، علامہ سید راحت حسین الحسینی، کوئٹہ میں علامہ جمعہ اسدی، علامہ علی حسنین، علامہ محمد کاظم بہجتی و دیگر علماء نے جو کوششیں کیں، ان پر تہہ دل سے مشکور ہیں۔

بالخصوص علامہ ڈاکٹر محمد موسیٰ حسینی جنہوں نے جدہ میں حج کے موقع پر پاکستانی سفارت خانہ میں جا کر حکام سے ملاقات کی اور میرے بارے میں انہیں بتایا۔

علامہ وجدانی نے کہا کہ بعد ازاں پاکستانی سفارت خانے کا عملہ مجھ سے ملنے جیل میں بھی آیا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں یہ خبر دی گئی ہے۔

خصوصاً سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، جنہوں نے بہت ہی دلیری کے ساتھ سینیٹ میں آواز اٹھائی اور جدہ میں پاکستانی عملے سے رابطہ میں تھے۔ جدہ میں پاکستانی عملے نے راجہ ناصر عباس جعفری کا بھی ذکر کیا۔

ان کا مشکور ہوں جنہوں نے ہر قانونی پلیٹ فارم پر میرے حق میں آواز اٹھائی، اور میری رہائی کے لیے کوششیں کیں۔

انہوں نے علامہ سید ساجد علی نقوی اور ان کے دوست و احباب کا بھی شکریہ ادا کیا۔

علامہ وجدانی نے کہا کہ کوئٹہ میں مولانا اکبر حسین زاہدی اور علامہ سید ہاشم موسوی اور امام جمعہ رحمت علی رضوانی کو کوششوں اور آواز اٹھانے پر بھی ان کا ممنون و مشکور ہوں۔

10:29 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top