کراچی میں وکلاء کی جانب سے رجب بٹ پر مبینہ تشدد، قانون کے محافظ خود قانون پامال کرنے لگے؟

29 دسمبر, 2025 14:50

شیعیت نیوز: کراچی میں سوشل میڈیا پر معروف شخصیت رجب بٹ پر وکلاء کی جانب سے مبینہ تشدد نے ایک سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا قانون کے محافظ خود قانون کو پامال کرنے لگے ہیں؟

اطلاعات کے مطابق توہین کے الزام کی آڑ میں وکلاء نے قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے رجب بٹ کو گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

اگر رجب بٹ نے کوئی غیر قانونی یا قابل گرفت جرم کیا ہے تو اس کا واحد اور آئینی راستہ عدالت ہے، نہ کہ ہجوم کی شکل میں تشدد۔

قانون واضح ہے کہ سزا دینے کا اختیار صرف اور صرف عدالت کو حاصل ہے، کسی فرد یا گروہ کو نہیں۔

وکلاء جیسے پڑھے لکھے اور قانون کے علمبردار طبقے کا اس طرح بدمعاشی پر اتر آنا نہ صرف افسوسناک بلکہ پورے نظام انصاف کے لیے شرمناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان، قلات میں 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا

یہ عمل اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ اگر آج وکلاء خود تشدد کریں گے تو کل ہر شخص یہی جواز بنا کر قانون کو ہاتھ میں لے لے گا۔ پھر قانون اور جنگل کے قانون میں کیا فرق رہ جائے گا؟

جو طبقہ عدالت، آئین اور قانون کی بات کرتا ہے، اسی کا اس طرح کی اوچھی حرکتوں میں ملوث ہونا معاشرے کے لیے انتہائی منفی پیغام ہے۔

رجب بٹ کو لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ لاکھوں لوگ ان سے اختلاف یا نفرت بھی کرتے ہیں، مگر اختلاف، نفرت یا الزام کسی کو تشدد کا حق نہیں دیتا۔

سوشل میڈیا پر مقبول ہونا یا ناپسند کیا جانا جرم نہیں، اور نہ ہی اس بنیاد پر کسی کی جان و عزت سے کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

ریاست، بار کونسلز اور متعلقہ اداروں کو اس واقعے کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔

اگر وکلاء قانون سے بالاتر ہو جائیں گے تو عام شہری کس سے انصاف کی امید رکھے گا؟

قانون کی بالادستی صرف نعروں سے نہیں، عمل سے ثابت ہوتی ہے، اور اس واقعے میں قانون کو بری طرح پامال کیا گیا ہے۔

12:46 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top