عراقی مزاحمتی گروہ خودمختار، ایران کے پراکسی کہنا توہین ہے، ایرانی سفیر
شیعیت نیوز : بغداد میں ایران کے سفیر محمد کاظم آل صادق نے کہا کہ ایران نے داعش کے خلاف عراقی مقاومتی گروہوں کی حمایت کی، لیکن یہ تعلق صرف دوستانہ ہے۔ یہ گروہ خود اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے عراقی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ ان تنظیموں کی شناخت ایران کے پراکسیز کے طور پر کرنا ان کے لیے توہین ہے۔ ایران نے داعش کے خلاف لڑائی کے دوران ان گروپوں کی حمایت کی اور یہ تعلق صرف دوستانہ بنیادوں پر قائم ہے۔ کچھ گروپوں سے ہتھیار محدود کرنے کی درخواست کے بعد خدشات ہیں، لیکن ایران ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی طیارے عراق کے اندر سے ایران کی نگرانی اور جاسوسی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ایران ہر قسم کے ممکنہ صہیونی اقدامات کے خلاف اپنی تیاریاں مکمل کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں انسانی امداد کی شدید کمی، جنگ بندی کے باوجود صہیونی رکاوٹیں جاری
عراق کے سیاسی منظرنامے اور کردستان کے حوالے سے آل صادق نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایران کے دوستانہ تعلقات ہیں اور کردستان کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہیں۔ ایران عراق کے نظام کی مضبوطی کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہے، اور چاہتا ہے کہ نئی حکومت دونوں ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھے۔
ایران کی عراق کے ساتھ تجارتی روابط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تجارتی تبادلے 12 ارب ڈالر سے زائد ہوئے، تاہم امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک سے عراق کے لیے سلامتی معاہدہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عراق میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا جرم تصور کیا جاتا ہے۔
آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ غزہ کے محاصرے کے ردعمل میں ایک فطری اقدام تھا، اور محور مقاومت اب بھی خطے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران اور عراق کی قربت اور محور مقاومت کے ساتھ مضبوط تعلقات خطے میں اسرائیل کے خلاف مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ تعلقات شام میں حکومت کے سقوط کے بعد بھی جاری ہیں۔







