صہیونی جیلوں میں 9300 سے زائد اسیران کو "بتدریج قتل” کا سامنا، فلسطینی ادارے کا انکشاف

27 دسمبر, 2025 16:59

شیعیت نیوز : فلسطینی ادارہ برائے امور اسراء نے صہیونی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی سنگین صورتحال سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ 9 ہزار 300 سے زائد فلسطینی اسیر اور زیر حراست افراد ایسی غیرانسانی حالت میں رکھے گئے ہیں جسے ’بتدریج قتل‘ کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔

ادارے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مختلف جیلوں کے دوروں کے بعد مرتب کی گئی رپورٹ میں قیدیوں پر تشدد میں غیرمعمولی اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ برقی جھٹکوں، پولیس کتوں کے استعمال، صوتی بموں اور شدید مارپیٹ جیسے ہتھکنڈے معمول بن چکے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ قیدیوں کو بنیادی انسانی ضروریات، بشمول مناسب لباس اور ہوا خوری کے وقت سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ تقریباً 350 فلسطینی بچے بھی قید ہیں جنہیں اہل خانہ سے ملاقات اور طبی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ غذائی قلت اور مناسب لباس نہ ہونے کے باعث یہ بچے جلدی اور متعدی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : حمص میں مسجد امام علیؑ پر خودکش دھماکہ، علوی کونسل، مقتدی الصدر اور اقوام متحدہ کی شدید مذمت

بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے 1400 سے زائد اسیر صہیونی جیلوں میں قید ہیں جہاں انہیں تشدد، علاج سے محرومی اور انسانی وقار کی مسلسل پامالی کا سامنا ہے۔

فلسطینی اداروں کے مطابق جیل نقب میں جبری بھوک کی پالیسی شدت سے نافذ ہے، جہاں انتہائی کم مقدار میں خوراک دی جا رہی ہے، جس کے باعث قیدیوں کا وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے اور شدید جسمانی کمزوری پھیل چکی ہے۔ ناقص صفائی کے باعث خارش اور نامعلوم وائرسز بھی پھیل رہے ہیں، جن کا کوئی علاج فراہم نہیں کیا جا رہا۔

بیان میں اسیر رہنماؤں کی حالت زار کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں فلسطین کی عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیکریٹری جنرل احمد سعدات شامل ہیں، جو جیل جانوت میں تنہائی اور انفرادی سیل میں شدید جسمانی تشدد کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں پسلیوں کے فریکچر اور دائمی درد جیسی سنگین چوٹیں سامنے آئی ہیں۔

7:59 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top