عراقی قانون کے مطابق اسرائیل سے تعلقات جرم ہے، مقتدیٰ الصدر

26 دسمبر, 2025 14:49

شیعیت نیوز: بغداد کے مار یوسف نامی چرچ میں حضرت عیسیٰ (ع) کی ولادت اور کرسمس کی تقریب منعقد ہوئی۔

اس تقریب میں عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی بھی شریک ہوئے۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے عراق میں کلڈین کیتھولک چرچ کے رہنما لوئس رافیل ساکو نے محمد شیاع السوڈانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب وزیر اعظم میں، (اسرائیل کے ساتھ) تعلقات کی بحالی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔

امید ہے کہ عراقی حکومت میری گزارش پر توجہ دے گی۔

عراق، انبیاء کی سرزمین ہے اور یہودیوں کی کتاب تلمود بھی یہاں بابل میں لکھی گئی۔

دنیا کو کہیں اور جانے کی بجائے عراق کی جانب آنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی سے نجف اشرف میں ملاقات

لوئس رافیل ساکو کے اس بیان کے بعد عراق کی سیاست میں بھونچال سا آ گیا۔

ملک بھر کی سیاسی تنظیموں، مشترکہ شیعہ سیاسی اتحاد اور محمد شیاع السوڈانی نے بھی اس سوچ پر تنقید کی۔

اس بارے میں الصدر تحریک کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عراقی قانون کے مطابق، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی، قابل سزا جرم ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام اور اداروں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کسی بھی درخواست کو سختی سے رد کریں۔

کیونکہ عراق میں صہیونی رژیم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور ایسی قانون سازی کی کوئی جگہ نہیں۔

دوسری جانب عراقی اوورسیز کے وزیر، ایفان فائق جابرو نے بھی سختی سے ہر اس بیان یا موقف کو رد کر دیا جو صہیونی رژیم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی دعوت یا کسی بھی شکل میں اس کی توجیہ کرتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات و نظریات، عراقی عوام کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی یہ عراق کے دینی و قومی طبقات کے حقیقی ارادے کا مظہر ہیں۔

اس بارے میں انہوں نے فیس بک پر ایک پوسٹ کی، جس میں لکھا کہ مسئلہ فلسطین کی حمایت میں عراقی حکومت و عوام ایک پیج پر ہے۔

ایفان فائق جابرو نے مزید کہا کہ عراق اپنے قومی اصول اور تاریخی و انسانی عزم کی بنیاد پر فلسطینیوں کے خلاف کسی بھی جارحیت اور قبضے کا مخالف ہے۔

انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے خیالات کو مسترد کرنے پر وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ ایفان فائق جابرو خود بھی مسیحی ہیں اور وہ اپنے پاسٹر کی جانب سے پیش کی گئی مذکورہ بالا پیشکش کے شدید مخالف ہیں۔

عراقی وزیر اعظم نے بھی اس موضوع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپس میں برادری، محبت، بقائے باہمی اور شریعت و آئین کی پاسداری کی ضرورت ہے۔

ہماری ڈکشنری میں تعلقات کی بحالی جیسا کوئی لفظ موجود نہیں کیونکہ یہ امر اس قابض رژیم سے وابستہ ہے جو سرزمین اور انسان کی عزت پامال کرتی ہے۔

4:44 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top