نیشنل پریس کلب میں جاہل گروہ کی پریس کانفرنس، خود کو شیعہ مسلمانوں کی "ملک گیر نمائندہ جماعت” قرار دینے کا دعویٰ
شیعیت نیوز: نیشنل پریس کلب میں "مرکزِ ولایتِ علی پاکستان” کے نام سے ایک نامعلوم گروہ نے پریس کانفرنس کی، جہاں شرکاء نے خود کو شیعہ مسلمانوں کی "ملک گیر نمائندہ جماعت” قرار دیا۔
یہ دعویٰ سن کر شیعہ کمیونٹی کے حلقوں میں حیرت اور غصے کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ یہ لوگ نہ تو کسی معروف شیعہ تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں، نہ ان کی کوئی عوامی شناخت ہے اور نہ ہی عوام انہیں جانتی ہے۔
پریس کانفرنس میں فضول اور واہیات باتیں کی گئیں، جو کسی منطق یا سینس سے خالی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے، طاقتور جو چاہے وہی ہو رہا ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
مقررین نے آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی جیسے بزرگ اور تسلیم شدہ عالم دین پر سنگین الزامات لگائے، ایک کتاب کا حوالہ دے کر توہین رسالت کا الزام عائد کیا اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کوئی ثبوت یا علمی دلیل پیش نہیں کی گئی – محض جاہلانہ بکواس۔
اسی طرح سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، جو شیعہ کمیونٹی کے جانباز رہنما اور منتخب پارلیمنٹرین ہیں، پر بالواسطہ تنقید کی گئی اور ان کی آئینی تنقید کو اداروں کے خلاف قرار دینے کی کوشش کی۔
غزہ اور ایران کے معاملے پر غیر مشروط وفاداری کا اظہار کیا گیا کہ "پاکستان جو کرے گا ٹھیک کرے گا”، جبکہ پاراچنار کے المیے پر ماضی کا ذکر تو کیا مگر موجودہ مسائل پر کوئی عملی بات نہیں۔
اختتام پر شرکاء نے خود اپنا تعارف کروانا شروع کر دیا: "میں مدرسہ چلاتا ہوں”، "میں ذاکر ہوں” وغیرہ۔
سوال یہ ہے کہ اگر آپ واقعی نمائندہ جماعت ہیں تو عوام آپ کو کیوں نہیں جانتی؟ آپ کی کوئی ریلی، جلوس یا تنظیمی بنیاد کیوں نہیں؟ اور طرز بیان و شکل سے تو شیعہ کمیونٹی کا کوئی گہرا تعلق نظر نہیں آتا۔
یہ لوگ اچانک کہاں سے نمودار ہوئے اور پریس کلب میں بیٹھ کر یہ ڈرامہ کیوں رچایا؟
شیعہ حلقوں میں شدید غم و غصہ ہے کہ ایک جاہل سا طبقہ اچانک پریس کانفرنس کر کے خود کو نمائندہ کہہ رہا ہے اور اپنے ہی بزرگان دین پر کیچڑ اچھال رہا ہے۔
حقیقی شیعہ قیادت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی جیسے رہنما دہائیوں سے خدمت اور قربانیاں دے رہے ہیں۔
یہ گروہ ان پر مقدمے کی باتیں کر کے خود کو کیسے شیعہ جماعت کہہ سکتا ہے؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پریس کانفرنس کسی مشکوک ایجنڈے کا حصہ لگتی ہے، جس کا مقصد شیعہ کمیونٹی میں انتشار پھیلانا اور متفقہ قیادت کو کمزور کرنا ہے۔
ملت تشیع کی نمائندگی تاریخ، قربانیوں اور عوامی اعتماد پر قائم ہے کسی نامعلوم اور جاہل گروہ کی محتاج نہیں۔
یہ واقعہ قوم کو متحد اور ہوشیار رہنے کی یاد دہانی ہے۔







